آپریشن سندور: بھارتی الزامات، اشتعال انگیز دعوے بے بنیاد، پاکستان مسترد کرتا ہے: دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ)پاکستان نے آپریشن سندور سے متعلق بھارت کے بے بنیاد اور اشتعال انگیز بیانات مسترد کر دیے ۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا میں آپریشن سندور سے متعلق بھارتی حکمرانوں کے بیانات کو مسترد کرتے ہیں، بھارتی رہنماؤں کے الزامات اور اشتعال انگیز دعوے بے بنیاد ہیں۔دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارتی بیانات حقائق مسخ کرنے اور جارحیت کو جواز دینے کی کوشش ہیں، پہلگام حملے کی تحقیقات کے بغیر بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا، 6 اور7 مئی کی درمیانی رات بھارت کے حملے میں معصوم شہری شہید ہوئے ۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت اپنے اسٹریٹیجک اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا جبکہ پاکستان نے بھارتی طیاروں اور اہداف کو نشانہ بنا کر کامیابی حاصل کی۔پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارتی رہنما اپنا نقصان تسلیم کریں اور تیسرے فریق کے کردار کو مانیں، پاکستان کی شفاف آزادانہ تحقیقات کی پیش کش بھارت نے مسترد کی تھی، بھارت نے جارحیت کا راستہ اپنایا اور خود ہی جج، جیوری اور ایگزیکیوشن بن گیا، مئی 2025 میں پاکستان نے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ آپریشن مہادیو سے متعلق بھارتی دعوے پاکستان کے نزدیک اہمیت نہیں رکھتے ، بھارتی وزیر داخلہ امیت کا بیان جھوٹ اور کہانیوں پر مبنی ہے ، پہلگام حملے کے مبینہ ملزمان لوک سبھا بحث کے آغاز میں ہی مارے گئے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: دفتر خارجہ کے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔