لوک سبھا میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اسمبلی نے بھارتی وزیرِ اعظم کے آپریشن سندور میں ناکامی کے ثبوت پیش کرتے ہوئے مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اپوزیشن رہنماؤں کے ٹھوس دلائل اور ناقابل تردید شواہد کا تو جواب نہ دے سکے لیکن آپریشن سندور پر روایتی جھوٹ کے انبار لگا دیے۔ 

امریکی صدر اور عالمی میڈیا کی بارہا تصدیق کے باوجود مودی نے آپریشن سندور کا حقیقی انجام عبرت ناک شکست ماننے سے انکار کردیا۔ 

آپریشن سندور پر جاری لوک سبھا اجلاس میں نریندر مودی کا کہنا تھا کہ دنیا کے کسی بھی رہنما نے بھارت سے آپریشن روکنے کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ 

نریندر مودی نے کہا کہ 9 مئی کی رات کو امریکی نائب صدر نے مجھ سے 3 سے 4 بار رابطہ کرنے کی کوشش کی۔

امریکی نائب صدر نے خبردار کیا کہ پاکستان کی طرف سے بڑا حملہ ہو سکتا ہے جس پر میں نے کہا تھا کہ حملہ ہوا تو ہمارا جواب اُس سے کہیں بڑا ہوگا۔

نریندر مودی نے ایک اور بے بنیاد بڑھک ماری کہ میں نے امریکی نائب صدر کو جواب دا کہ ہم گولی کا جواب توپ سے دیں گے۔

بھارتی وزیراعظم نے ایک اور سفید جھوٹ بولا کہ 9 اور 10 مئی کی درمیانی رات کو ہم نے پاکستان کی طاقت تباہ کر دی تھی۔

نریندر مودی نے مزید کہا کہ آج پاکستان کو اندازہ ہو گیا کہ بھارت کا ہر جواب پہلے سے کہیں زیادہ غیر متوقع ہوتا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نے ایک اور بڑھک ماری کہ اگر آئندہ ضرورت پیش آئی تو پاکستان کو جواب دینے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

نریندر مودی نے کہا کہ میں ایک بار پھر دہرانا چاہتا ہوں، آپریشن سندور اب بھی جاری ہے۔ پاکستان نے دوبارہ غلطی کی تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کے آپریشن بنیان المرصوص نے مودی کا جنگی جنون زمین بوس کر دیا تھا۔

جس کی تصدیق امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ اور نیو یارک ٹائمز نے بھی کی تھی۔ بی بی سی کے ریجنل ایڈیٹر اینبرسن اتھر جان نے بھی پاکستان کی دفاعی برتری کا اعتراف کیا تھا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔

 ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔

بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار