مودی کی لوک سبھا میں ’آپریشن سندور‘ پر تقریر جھوٹ کا پلندہ قرار، عالمی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے ’آپریشن سندور‘ کی ناکامی کو چھپانے کی ناکام کوشش کی اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ حقائق کو یکسر مسترد کرتے ہوئے جھوٹے دعووں کا سہارا لیا۔
مودی کا کہنا تھا کہ دنیا کے کسی بھی رہنما نے بھارت سے آپریشن روکنے کا مطالبہ نہیں کیا، جبکہ امریکی نائب صدر نے 9 مئی کی رات انہیں بار بار خبردار کیا کہ پاکستان کی جانب سے بڑا حملہ ہو سکتا ہے۔ مودی نے دعویٰ کیا کہ بھارت نے اس خطرے کے پیشِ نظر پاکستان کی طاقت تباہ کر دی اور آئندہ بھی بھارت کا جواب غیر متوقع ہوگا۔
مزید پڑھیں: ’جن طیاروں کی پوجا لیموں اور مرچ سے کی گئی تھی، وہ کہاں گئے‘؟ بھارتی لوک سبھا میں ہنگامہ
مودی نے نہ صرف یہ دعویٰ کیا کہ آپریشن اب بھی جاری ہے بلکہ پاکستان کو دھمکی دی کہ اگر دوبارہ ایسی غلطی ہوئی تو بھارت کسی حد تک جا سکتا ہے۔
تاہم عالمی حقائق ان بیانات کی نفی کرتے ہیں۔ امریکی میڈیا، بشمول واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز، کے مطابق پاکستان نے بھارت کی جارحیت کا مؤثر جواب دے کر ان کے جنگی طیارے ان ہی کی حدود میں مار گرائے۔ بی بی سی کے ریجنل ایڈیٹر اینبرسن اتھر جان نے بھی پاکستان کی دفاعی برتری اور بھارت کی عسکری کمزوری کو تسلیم کیا۔
بھارتی فضائیہ کے افسر ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ کے مطابق اودھم پور، آدم پور، بھج اور پٹھان کوٹ ایئربیسز کو پاکستانی کارروائی میں شدید نقصان پہنچا، جبکہ بھارت کی جانب سے کرنل صوفیہ کے ذریعے جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: بھارتی طیارے نہیں گرے تو مودی کہیں ٹرمپ جھوٹ بول رہا ہے، راہول گاندھی کا چیلنج
سی این این اور دی ڈپلومیٹ سمیت دیگر بین الاقوامی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکی صدر نے 29 سے زائد بار مداخلت کرکے کشیدگی ختم کرانے میں کردار ادا کیا اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کو مؤثر قرار دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مودی کی حالیہ تقریر نہ صرف زمینی حقائق سے انکار ہے بلکہ خطے کے امن کو مزید داؤ پر لگانے کے مترادف بھی ہے۔ بھارت کی اربوں ڈالر کی عسکری سرمایہ کاری کے باوجود ناکامی نے مودی حکومت کے بیانیے کو کمزور کردیا ہے، جسے اب دھمکیوں اور جھوٹے دعوؤں سے سہارا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آپریشن سندور بھارتی فضائیہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی دی ڈپلومیٹ سی این این.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی فضائیہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی دی ڈپلومیٹ سی این این پاکستان کی بھارت کی
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار