زائرین کو سکیورٹی دینے کے بجائے سفر پر پابندی سمجھ سے بالاتر ہے، پی ٹی آئی کوئٹہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
اپنے بیان میں پی ٹی آئی رہنماء رحیم کاکڑ نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت فوری طور پر فیصلے پر نظرثانی کرے اور زائرین کے زمینی راستہ کو محفوظ بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف کوئٹہ نے پاکستانی زائرین کے زمینی سفر پر حکومت کی جانب سے پابندی کی مذمت کرتے ہوئے مسافروں کو سکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سکیورٹی دینے کے بجائے زائرین کے سفر پر پابندی سمجھ سے بالا تر ہے۔ اپنے جاری بیان میں تحریک انصاف کے رہنماء و سابق ضلعی ناظم کوئٹہ محمد رحیم کاکڑ نے کہا کہ زائرین کے براستہ سڑک عراق جانے پر پابندی کا فیصلہ قبول نہیں ہے۔ وفاقی حکومت فوری طور پر فیصلے پر نظرثانی کرے اور زائرین کے زمینی راستہ کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام مسافروں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اب وزارت داخلہ کی جانب سے براستہ سڑک عراق زیارات پر جانے پر پابندی سمجھ سے بالاتر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پر پابندی زائرین کے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔