بہاولپور، ایم ڈبلیو ایم کے زیراہتمام زمینی راستے کی بندش کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے رہنمائوں نے مطالبہ کیا کہ اربعین صرف ایک مذہبی سفر نہیں بلکہ عقیدت، اتحاد امت اور انسانیت کے پیغام کا ایک عالمی مظہر ہے، جس میں دنیا بھر سے لاکھوں زائرین شریک ہوتے ہیں۔ پاکستان سے ہر سال ہزاروں عاشقانِ امام حسین بائی روڈ زیارت کے لیے ایران اور عراق کا سفرکرتے ہیں، حکومت اپنا فیصلہ واپس لے اور زائرین کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین بہاولپور کے زیراہتمام حکومت کی جانب سے چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر ایران و عرق جانے والے زائرین کے لیے زمینی راستے کی بندش کے خلاف مجلس وحدت مسلمین کے چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے حکم پر ملک بھر کی طرح بہاولپور میں بھی یوم احتجاج منایا گیا، مظاہرین نے بہاولپور پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا اور وفاقی حکومت سے زائرین کے لیے زمینی راستے کھولنے اور اُنہیں تحفظ دینے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرے کی قیادت ضلعی آرگنائزر مجلس وحدت مسلمین بہاولپور ڈاکٹر نوید محسن چوہان نے کی۔ مظاہرے میں مرد و زن، بچے، بوڑھے اور نوجوان کی کثیر تعداد نے شرکت کی، ریلی کا مقصد حکومت پاکستان کی جانب سے اربعین زائرین پر بائی روڈ عراق جانے پر عائد کی گئی، پابندی کو فی الفور ختم کروانا تھا۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے علامہ خضر کراروی، مولانا صفدر عباس، ذاکر اہلیبیت نوبہار شاہ، ایڈووکیٹ جاوید کلاچی، ایڈووکیٹ گل بہار شاہ اور آئی ایس او کے رہنما اسد گھمن نے مطالبہ کیا کہ اربعین صرف ایک مذہبی سفر نہیں بلکہ عقیدت، اتحاد امت اور انسانیت کے پیغام کا ایک عالمی مظہر ہے، جس میں دنیا بھر سے لاکھوں زائرین شریک ہوتے ہیں۔ پاکستان سے ہر سال ہزاروں عاشقانِ امام حسین بائی روڈ زیارت کے لیے ایران اور عراق کا سفر کرتے ہیں۔ حکومت اپنا فیصلہ واپس لے اور زائرین کے لیے آسانیاں پید ا کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: زائرین کے لیے
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک