چین: شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے 30 افراد ہلاک، 80 ہزار سے زائد افراد محفوظ مقامات پر منتقل
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
چین کے شمالی علاقوں میں مسلسل موسلادھار بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 30 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ علاقے بیجنگ، تیانجن اور صوبہ حبیہ شامل ہیں۔
بیجنگ کے می یون ضلع کے شمال مشرقی حصے میں سب سے زیادہ ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، جہاں کئی مکانات اور سڑکیں سیلاب اور مٹی کے تودوں کے باعث تباہ ہو گئیں۔ قومی موسمیاتی ادارے نے ریڈ الرٹ جاری کر رکھا ہے، جو انتباہ کا دوسرا بلند ترین درجہ ہے۔
حکام کے مطابق بیجنگ سے 80 ہزار سے زائد افراد کو انخلا کے لیے مجبور ہونا پڑا ہے، جبکہ 130 سے زائد دیہات بجلی سے محروم ہیں۔ ژینژوانگ گاؤں میں کیچڑ سے گاڑیاں ڈھک گئیں اور پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ یہ دہائیوں کا بدترین سیلاب ہے۔
مزید پڑھیں: ملک بھر میں 3 اگست تک ممکنہ سیلابی صورتحال، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
تیانجن میں بھی 10 ہزار سے زائد افراد کو نچلے علاقوں سے نکالا گیا، جبکہ صوبہ حبیہ میں لینڈ سلائیڈنگ سے 8 افراد جاں بحق اور 4 لاپتا ہو گئے۔ کئی پہاڑی دیہات کا دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔
چینی حکومت نے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، جس میں فوج بھی شامل ہے۔ صرف صوبہ حبیہ میں 8 ہزار سے زائد افراد کو بچایا جا چکا ہے۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور کئی شہروں میں اب بھی سیلاب کا الرٹ برقرار ہے۔
صدر شی جن پنگ نے حکام کو ہنگامی حالات کے لیے تیار رہنے، فوری انخلا اور متاثرین کی بھرپور مدد کی ہدایت کی ہے۔ مرکزی حکومت نے امدادی کاموں کے لیے 490 ملین یوآن (قریباً 68 ملین ڈالر) جاری کیے ہیں، جبکہ بیجنگ کو اضافی 200 ملین یوآن دیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق بارشوں کا سلسلہ مزید جاری رہنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بارشیں بیجنگ چین لینڈ سلائیڈنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چین لینڈ سلائیڈنگ ہزار سے زائد افراد لینڈ سلائیڈنگ افراد کو کے لیے
پڑھیں:
مون سون کا طاقتور سپیل جاری، مختلف علاقوں میں آج بھی بارشوں کی پیشگوئی
صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں مون سون کا طاقتور سپیل جاری ہے، جبکہ محکمہ موسمیات نے آج بھی وقفے وقفے سے بارش کی پیش گوئی کردی، مون سون بارشوں کے باعث حبس اور گرمی کی شدت میں نمایاں کمی آ گئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران کم سے کم درجہ حرارت 27 اور زیادہ سے زیادہ 32 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے، شہر کا موجودہ درجہ حرارت 28 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ہوا کی رفتار 11 کلومیٹر فی گھنٹہ اور ہوا میں نمی کا تناسب 83 فیصد رہا۔محکمہ موسمیات نے آج جمعہ کے روز پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی مون سون ہوائیں ملک کے بالائی علاقوں پر اثرانداز ہیں، جبکہ مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ بھی موسم کو متاثر کر رہا ہے، اس کے باعث بالائی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کا امکان برقرار رہے گا۔پیشگوئی کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، فیصل آباد، سرگودھا، مری، گلیات، جہلم، اٹک اور چکوال سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے، خیبرپختونخوا کے پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، ایبٹ آباد، مانسہرہ، سوات، دیر، چترال، کوہستان اور دیگر بالائی علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے، جبکہ شمال مشرقی بلوچستان کے کوئٹہ، زیارت، ژوب، موسیٰ خیل، بارکھان اور ملحقہ علاقوں میں کہیں کہیں بارش ہو سکتی ہے، سندھ کے بالائی اور جنوب مشرقی علاقوں میں چند مقامات پر بارش کا امکان ہے، تاہم صوبے کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بعض علاقوں میں شدید بارش کے باعث شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ، برساتی ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔ متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے جبکہ شہریوں، بالخصوص سیاحوں اور پہاڑی علاقوں کا سفر کرنے والوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ادھر قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں نے بھی مقامی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ تیز بارش، آندھی یا گرج چمک کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور موسم سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔