26 نومبر احتجاج کیس میں 50 پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹِ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
انسداددِ ہشتگردی عدالت اسلام آباد نے 26 نومبر احتجاج کیس میں 50 پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹِ گرفتاری جاری کردیے۔
وارنٹِ گرفتاری انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے جاری کیے۔
تھانہ کراچی کمپنی کی پولیس کی جانب سے وارنٹِ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے وارنٹ تھانہ کراچی کمپنی میں درج 2 مقامات میں جاری کیے گئے ہیں۔
پی ٹی آئی کے رہنما عارف علوی، عبدالقیوم نیازی، شبلی فراز، فیصل جاوید، سلمان اکرم راجہ، روف حسن، مراد سعید، احمد نیازی، عمر امین گنڈاپور، اسد قیصر، حماد اظہر، عاطف خان کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔
علاوہ ازیں شعیب شاہین، اعظم خان سواتی، عمر ایوب، صاحبزاہ حامد رضا، علیمہ خان، شیخ وقاص اکرم، کنول شوزب، شاندانہ گلزار کے بھی وارنٹِ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک