اسحاق ڈار اور ترک وزیرخارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، غزہ کی بدلتی صورتحال پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
اسحاق ڈار اور ترک وزیرخارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، غزہ کی بدلتی صورتحال پر گفتگو WhatsAppFacebookTwitter 0 28 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاکان فدان کے درمیان رابطہ ہوا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ حاکان فدان نے وزیر خارجہ اسحاق سے ٹیلیفونک گفتگو کی، دونوں رہنما ئوں نے غزہ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بات چیت کی۔دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزرائے خارجہ نے فلسطین میں دیرپا امن کے حصول کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ترجمان کے مطابق حاکان فدان نے اسحاق ڈار کو غزہ پر سفارتی عمل میں یو این جی اے کے سائیڈ لائنز میں شریک آٹھ پارٹنر ممالک کے وزرائے خارجہ کے آئندہ ہفتے ہونے والے اجلاس کے لیے ترکی میں مدعو کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر وزیراعلی کے پی کا توہین عدالت کی درخواست دینے کا اعلان عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر وزیراعلی کے پی کا توہین عدالت کی درخواست دینے کا اعلان کابینہ ڈویژن نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کا توشہ خانہ ریکارڈ جاری کردیا پاکسعودی اقتصادی تعاون کا فریم ورک شروع کرنے پر اتفاق:وزیر اعظم ،سعودی ولی عہد ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ جاری بجلی کمپنیاں نقصانات میں کمی اور ریکوری بڑھانے میں ناکام، جرمانے عائد فیلڈ مارشل عاصم منیر کا مصر، اردن اور سعودی عرب کا تاریخی دورہ، کامیاب ملٹری ڈپلومیسی کی شاندار مثال پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں مذاکرات کا دوبارہ آغازCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔