یواین سیکریٹری جنرل کا چیف ایڈوائزر سے ٹیلیفونک رابطہ، سوڈان میں بنگلہ دیشی فوجیوں کی شہادت پر اظہار افسوس
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس سے فون پر رابطہ کیا اور سوڈان میں ڈرون حملے میں جاں بحق ہونے والے 6 بنگلہ دیشی اہلکاروں کے جاں بحق ہونے پر گہری ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوڈان میں عسکریت پسندوں کا اقوام متحدہ کے اڈے پر حملہ، 6 بنگلہ دیشی فوجی جاں بحق
اتوار کے روز نتونیو گوتریس نے ڈاکٹر محمد یونس سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ ’میں گہری ہمدردی کا اظہار کرنے کے لیے کال کر رہا ہوں۔ میں اس واقعے سے دل گرفتہ اور حیران ہوں۔‘ انہوں نے بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کا بھی اظہار کیا اور پروفیسر یونس سے کہا کہ وہ مرحومین کے اہلخانہ کو تعزیت پہنچائیں۔
پروفیسر یونس نے جاں بحق ہونے والے پیس کیپرز کے نقصان پر گہرا دکھ ظاہر کیا اور اقوام متحدہ سے درخواست کی کہ زخمی فوجیوں کو اعلیٰ طبی سہولیات دی جائیں اور بنگلہ دیشی فوجیوں کی لاشوں کی فوری واپسی کو یقینی بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: سوڈان میں شہید ہونے والے بنگلہ دیشی فوجی اہلکاروں کی تفصیل جاری
یو این سیکریٹری جنرل نے بتایا کہ زخمی پیس کیپرز کو ابتدائی طور پر سوڈان کے ایک مقامی اسپتال میں علاج فراہم کیا گیا اور شدید زخمیوں کو بہتر طبی سہولتوں والے اسپتالوں میں منتقل کرنے کے انتظامات کیے جارہے ہیں۔
پروفیسر یونس نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا شکریہ ادا کیا کہ وہ بنگلہ دیشی فوجیوں کے علاج اور انخلا پر توجہ دے رہے ہیں۔
اس موقع پر پروفیسر یونس نے سیکریٹری جنرل کے پچھلے رمضان میں بنگلہ دیش کے دورے کو بھی یاد کیا، دونوں رہنماؤں نے آئندہ عام انتخابات پر بھی گفتگو کی، جس میں پروفیسر یونس نے انتونیو گوتریس کو یقین دلایا کہ عبوری حکومت 12 فروری کو آزاد، شفاف، پرامن اور خوشگوار انتخابات کرائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیشی فوج میں بغاوت، عوامی لیگ کے ملوث ہونے کے ثبوت سامنے آگئے
یواین سیکریٹری جنرل نے بنگلہ دیش میں انتخابات کے کامیاب انعقاد پر اعتماد کا اظہار کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اقوام متحدہ امن فورس بنگلہ دیش ڈرون حملہ سوڈان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ امن فورس بنگلہ دیش ڈرون حملہ سوڈان پروفیسر یونس نے سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ بنگلہ دیشی بنگلہ دیش سوڈان میں
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر