سوڈان کے متنازع علاقے ابیئی میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے دوران ڈرون حملے کے نتیجے میں بنگلہ دیشی فوج کے 6 اہلکار شہید اور 8 زخمی ہو گئے۔ بنگلہ دیش آرمی نے شہید ہونے والے اہلکاروں کی شناخت ظاہر کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:انقلاب منچہ کے کنوینیئر پر حملہ: بنگلہ دیشی حکومت کا ملزم کی گرفتاری میں مدد پر 50 لاکھ ٹکا انعام کا اعلان

بنگلہ دیش آرمی کے جاری کردہ بیان کے مطابق اقوامِ متحدہ کے تحت خدمات انجام دینے والے 6 بنگلہ دیشی امن دستے کے اہلکار ہفتے کے روز اس وقت شہید ہوئے جب ایک علیحدگی پسند مسلح گروہ نے سوڈان کے علاقے ابیئی میں قائم کدوگلی لاجسٹک بیس پر ڈرون حملہ کیا۔ حملہ مقامی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بج کر 40 منٹ سے 3 بج کر 50 منٹ کے درمیان کیا گیا۔

The Inter-Services Public Relations (#ISPR) today disclosed the identities of the six Bangladeshi peacekeepers who were killed in a drone attack on a United Nations peacekeeping base in Sudan yesterday.

#Bangladesh https://t.co/7gIVNPNY5n

— The Daily Star (@dailystarnews) December 14, 2025

شہید ہونے والے اہلکاروں میں کارپورل محمد مسعود رانا (ضلع ناٹور)، پرائیویٹ محمد مومن الاسلام (ضلع کریگرام)، پرائیویٹ شمیم رضا (ضلع راجباری)، پرائیویٹ شانٹو منڈول (ضلع کریگرام)، میس ویٹر محمد جہانگیر عالم (ضلع کشور گنج) اور لانڈری ورکر محمد سبوج میاں (ضلع گائی بندھا) شامل ہیں۔

ڈرون حملے میں ایک سینئر افسر سمیت 8 اہلکار زخمی ہوئے جن میں لیفٹیننٹ کرنل خندکار خالق الزمان (ضلع کوشتیا)، سارجنٹ محمد مستقم حسین (ضلع دیناج پور)، کارپورل افروزہ پروین اتی (ڈھاکہ)، لانس کارپورل محبوب الاسلام (برگونا)، پرائیویٹ محمد میزباال کبیر (کریگرام)، پرائیویٹ امّہ ہانی اختر (رنگ پور)، پرائیویٹ چمکی اختر (مانیک گنج) اور پرائیویٹ محمد منظر احسن (نوآکھلی) شامل ہیں۔

The U.S. Embassy​ notes Bangladesh's long history of support to UN Peace Keeping Operations, and extends its condolences to the families, friends and colleagues of the six Bangladeshi UN peacekeepers killed in Sudan and hopes for a speedy recovery for the eight who were injured. pic.twitter.com/LE2z6BdXuO

— U.S. Embassy Dhaka (@usembassydhaka) December 14, 2025

بنگلہ دیش آرمی کے مطابق تمام زخمی اہلکاروں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ شدید زخمی پرائیویٹ محمد میزباال کبیر کی کامیاب سرجری کر دی گئی ہے اور وہ انتہائی نگہداشت میں ہیں، جبکہ دیگر 7 اہلکاروں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے بہتر علاج کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

بنگلہ دیشی فوج نے اس واقعے کو ایک ’بہیمانہ دہشت گردانہ حملہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہید ہونے والے اہلکاروں کی قربانی عالمی امن و استحکام کے لیے بنگلہ دیش کے پختہ عزم کی واضح علامت ہے۔ فوج کی جانب سے شہدا کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امن مشن بنگلہ دیش بنگلہ دیشی فوجی یو این امن مشن

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ بنگلہ دیش بنگلہ دیشی فوجی یو این امن مشن شہید ہونے والے پرائیویٹ محمد بنگلہ دیشی بنگلہ دیش کے لیے

پڑھیں:

شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان

ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان