عالمی افق پر مضبوط اور ابھرتا پاکستان، عوام کا مؤثر سفارت کاری پر بھرپور اعتماد کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
عالمی افق پر مضبوط اور ابھرتا پاکستان عوام کا مؤثرسفارت کاری پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔
انسٹیٹیوٹ فارپبلک اوپینین ریسرچ (IPOR)نے مختلف اہم امور پرجامع عوامی سروے منعقد کیا، 10سے 20 اکتوبر 2025 کے درمیان منعقدہ سروے میں پاک سعودی معاہدہ، وزیراعظم و فیلڈ مارشل کا دورہ امریکا اور پاک افغان کشیدگی کے موضوعات شامل ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ کے سروے کے مطابق 80فیصد عوام کے مطابق پاک سعودی دفاعی معاہدے نےپاکستان کے عالمی تشخص میں اضافہ کیا ہے، 79فیصد پاکستانیوں نے پاک سعودی دفاعی معاہدے کی حمایت کی۔
سروے رپورٹ کے مطابق 73فیصد شہریوں کے مطابق پاک سعودی معاہدے سےحکومت اور افواج پاکستان پراعتماد بڑھ گیا ہے، حالیہ پاک افغان کشیدگی میں 71فیصد پاکستانیوں نے افغان طالبان کو کشیدگی کاذمہ دارقراردیا۔
75فیصدشہریوں نے پاک افغان کشیدگی میں پاکستان کی مؤثر جوابی کارروائی پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے دورہ امریکا سے پاکستان کے عالمی تشخص اور وقار میں اضافہ ہوا ہے۔
حالیہ سروے رپورٹ پاکستان کی بہترین سفارت کاری اورعالمی امیج میں اضافے کی عکاس ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔