حکومت کا ملک بھر کے کال سینٹرز سے متعلق بڑا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
اسلام آباد (29 جولائی 2025): ڈیجیٹل مالی فراڈ کے واقعات میں اضافے کے بعد حکومت نے ملک بھر کے کال سینٹرز سے متعلق بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ڈیجٹیل مالی فراڈ کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر ملک بھرکال سینٹرز کو قانون کے دائرے میں لانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ کال سینٹر کے قیام کے لیے لائسنس لازمی قرار دیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق کال سینٹر کو لائسنس 3 وفاقی اداروں کی منظوری سے جاری ہوگا۔ اس حوالے سے این سی سی آئی اے، پی ٹی اے اور حساس ادارے کو ذمہ داری دی جائے گی۔ این سی سی آئی اے کے ’’آپریشن گرے‘‘ کا دائرہ صوبوں تک پھیلایا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ ایف آئی اے کے آپریشن گرے میں منظم ڈیجیٹل فراڈ کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کیے جارہے ہیں۔ صوبوں میں موجود غیر لائسنس یافتہ اور مشکوک کال سینٹر اب اگلا ہدف ہیں۔اس ساری کارروائی کا مقصد جعلی اسکیموں کے ذریعے فراڈ کرنے والوں کا نیٹ ورک توڑنا ہے جب کہ یہ سائبر کرائم ریسپانس انفرااسٹرکچر کو جدید بنانے کی کوششوں کا بھی حصہ ہیں۔ حالیہ کارروائیوں سے ڈیجیٹل جعل سازوں کے طریقہ کار میں خلل پڑ رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
فائل فوٹوآزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی، میرپور ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا، آزاد کشمیر میں 5 جون سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔
آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے انٹرنیٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔