معیشت کی ڈیجیٹائز یشن سے شفافیت آئے گی ‘ پلان پر موثرعمل کیلئے صوبوں سے مشاورت کی جائے : وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت ڈیجیٹل ادائیگیوں اور رقوم کی ڈیجیٹل منتقلی کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ ڈیجیٹائزیشن ٹرانسفارمیشن پلان پر موثر اور جامع عمل درآمد کے لیے صوبائی حکومتوں سے بامعنی مشاورت کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی زیر صدارت کیش لیس و ڈیجیٹل اکانومی کے حوالے سے اقدامات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس سے خطاب میں کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ معیشت کی ڈیجیٹائزیشن سے شفافیت کے فروغ میں مدد ملے گی۔ وفاقی حکومت کی ڈیجیٹائزیشن ٹرانسفارمیشن پلان کی بنیادی اساس عوام کو بغیر اضافی اخراجات کے سہولت بہم پہنچانا ہے ، حکومت پالیسی اقدامات سے ڈیجیٹل ادائیگیوں اور رقوم کی ڈیجیٹل منتقلی کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ وفاقی حکومت ڈیجیٹائزیشن ٹرانسفارمیشن پلان پر موثر اور جامع عمل درامد کے لیے صوبائی حکومتوں سے بامعنی مشاورت کرے ،معیشت کی ڈیجیٹائزیشن اور کیش لیس اکانومی کے حوالے سے تمام صوبائی حکومتیں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومتیں وفاقی حکومت سے بھرپور تعاون کریں۔ انہوں نے صوبائی حکومت اور صوبائی اداروں کے تعاون سے وفاقی حکومت کے ڈیجیٹائزیشن ٹرانسفارمیشن پلان کو مزید مستعد بنانے کی ہدایت کی تاکہ اہداف مقررہ وقت میں حاصل کیے جا سکیں۔وزیراعظم نے تمام سٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت کو اس پلان کا مستقل حصہ بنانے کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس میں معیشت کی ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے پیشرفت پر بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ نیشنل ڈیجیٹل کمشن اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے اور اس حوالے سے ضروری رولز بنائے جا چکے ہیں ،پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے چیئرپرسن اور ممبران کی تعیناتی کا عمل آخری مراحل میں ہے اور مرچنٹ آن بورڈنگ فریم ورک کا اجراء 25 جولائی، 2025ء کو کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کی ڈیجیٹائزیشن صوبائی حکومت وفاقی حکومت حوالے سے معیشت کی
پڑھیں:
5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔
پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔