محکمہ ہاؤسنگ کا سستے اور قابل استطاعت رہائشی منصوبوں سے متعلق بڑا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
سٹی42: محکمہ ہاؤسنگ نے عوام کو سہولیات سے بھرپور اور قابلِ خرید رہائشی مواقع فراہم کرنے کے لیے اہم اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک مربوط قانونی فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے تاکہ سستے گھروں کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
صوبہ بھر کی تمام ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے قوانین اور لیگل فریم ورکس کو یکساں کیا جائے گا۔سرکاری اور نجی ہاؤسنگ اسکیموں میں سستے اور قابلِ خرید گھروں کی فراہمی کو لازم بنایا جائے گا۔تمام ہاؤسنگ اسکیموں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ اپنے منصوبوں میں ایک مخصوص فیصد علاقہ سستے گھروں کے لیے مختص کریں۔سستے گھروں کو ضروری سہولیات کے قریب اور رہنے کے قابل بنایا جائے گا۔سماجی ذمہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے قوانین تیار کیے جائیں گے تاکہ ہر طبقے کو رہائشی سہولت مل سکے۔
نئے قوانین کا اطلاق تمام ضلعی ڈویلپمنٹ اتھارٹیز، روڈا (RUDA)، پھاٹا (PHATA) اور سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ پر ہو گا۔قوانین پر عملدرآمد سے قبل مکمل قانونی تیاری اور مشاورت کی جائے گی۔
مرغی کی قیمت نے شہریوں کے ہوش اڑا دئیے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔