محکمہ ہاؤسنگ کا سستے اور قابل استطاعت رہائشی منصوبوں سے متعلق بڑا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
سٹی42: محکمہ ہاؤسنگ نے عوام کو سہولیات سے بھرپور اور قابلِ خرید رہائشی مواقع فراہم کرنے کے لیے اہم اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک مربوط قانونی فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے تاکہ سستے گھروں کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
صوبہ بھر کی تمام ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے قوانین اور لیگل فریم ورکس کو یکساں کیا جائے گا۔سرکاری اور نجی ہاؤسنگ اسکیموں میں سستے اور قابلِ خرید گھروں کی فراہمی کو لازم بنایا جائے گا۔تمام ہاؤسنگ اسکیموں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ اپنے منصوبوں میں ایک مخصوص فیصد علاقہ سستے گھروں کے لیے مختص کریں۔سستے گھروں کو ضروری سہولیات کے قریب اور رہنے کے قابل بنایا جائے گا۔سماجی ذمہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے قوانین تیار کیے جائیں گے تاکہ ہر طبقے کو رہائشی سہولت مل سکے۔
نئے قوانین کا اطلاق تمام ضلعی ڈویلپمنٹ اتھارٹیز، روڈا (RUDA)، پھاٹا (PHATA) اور سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ پر ہو گا۔قوانین پر عملدرآمد سے قبل مکمل قانونی تیاری اور مشاورت کی جائے گی۔
مرغی کی قیمت نے شہریوں کے ہوش اڑا دئیے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔