ایف بی آر میں جدید ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی تشکیل کی منظوری، عالمی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
وزیرِاعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں جدید اور عالمی معیار کے ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی تشکیل کی منظوری دیتے ہوئے اس منصوبے کی تکمیل کے لیے بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی بھی ہدایت جاری کردی۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ ایف بی آر کی جاری اصلاحات کے باعث معیشت مثبت سمت میں گامزن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف نظام کو ڈیجیٹل بنانا کافی نہیں بلکہ ایک مکمل ڈیجیٹل ایکو سسٹم تشکیل دیا جائے تاکہ نظام مؤثر، شفاف اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔
وزیرِاعظم نے اس بات پر زور دیا کہ خام مال کی تیاری، درآمد، مصنوعات کی تیاری اور آخر میں صارف تک خریداری کے تمام مراحل کو ایک مربوط ڈیجیٹل سسٹم سے جوڑا جائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ نظام اس حد تک مضبوط اور بااعتماد ہونا چاہیے کہ پوری ویلیو چین کی حقیقی وقت میں ڈیجیٹل نگرانی ممکن ہو سکے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ اس نظام کے تحت جمع شدہ مرکزی ڈیٹا کو قومی سطح پر معاشی پالیسی سازی اور اسٹریٹجک فیصلہ سازی میں استعمال کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور غیر رسمی معیشت کو دستاویزی بنانے کے بغیر عام آدمی کے لیے ٹیکسوں میں کمی کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یہ اہم فیصلے وزیرِاعظم کی زیر صدارت ایف بی آر اصلاحات پر ہونے والے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس میں کیے گئے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر محمد اورنگزیب، احد خان چیمہ، وزیرِ مملکت برائے ریونیو بلال اظہر کیانی، چیئرمین ایف بی آر، چیف کوآرڈینیٹر مشرف زیدی، معاشی ماہرین اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کو ایف بی آر کے ڈیٹا کو ایک مرکزی نظام سے منسلک کرنے اور ویلیو چین کی رئیل ٹائم ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے جدید ایکو سسٹم پر ہونے والی پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان ایکو سسٹم ایف بی آر
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔