گرین لائن کی وفاقی سے سندھ حکومت کو منتقلی کے بعد یومیہ رائیڈر شپ میں نمایاں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
کراچی:
وفاق سے سندھ حکومت کو گرین لائن بی آر ٹی کی منتقلی کے بعد اس کی یومیہ رائیڈر شپ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور گرین لائن کی رائیڈر شپ گزشتہ چھ ماہ میں 52 ہزار سے بڑھ کر 72 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
اس حوالے سے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے 15ویں بورڈ اجلاس سندھ سیکریٹریٹ میں سینیئر وزیر کے دفتر میں ہوا۔ اجلاس میں گرین لائن بی آر ٹی کی رائیڈرشپ کو روزانہ ڈیڑھ لاکھ مسافروں تک پہنچانے کے لیے جامع اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں میئر سکھر ارسلان اسلام شیخ، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، ایم ڈی ایس ایم ٹی اے کمال دایو اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ایم ڈی ایس ایم ٹی اے نے ادارے کی کارکردگی اور شہری ٹرانسپورٹ کے جاری منصوبوں پر بریفنگ دی جبکہ ایس ایم ٹی اے بورڈ نے سال 2025-26 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے پورٹ فولیو کی توثیق کرتے ہوئے ان منصوبوں کی فوری تکمیل کے احکامات جاری کیے۔
بورڈ نے گرین اور اورنج لائن بس منصوبوں کے پراپرٹی مینجمنٹ کے لیے نان فیئر ریونیو فرم کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری بھی دی۔
اس موقع پر بات کرتے ہوئے وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ وفاق سے گرین لائن کی حوالگی کے بعد سندھ حکومت نے اس نظام کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں، جن کے مثبت نتائج رائیڈرشپ میں مسلسل اضافے کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گرین لائن اور اورنج لائن کو آپس میں منسلک کرنے سے عوام کو سہولت ملی ہے اور ان کے روزمرہ سفر میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ نان فیئر ریونیو ماڈلز کو بروئے کار لا کر ان منصوبوں کو مالی طور پر خود کفیل بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
سینیئر وزیر کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت شہریوں کو جدید، معیاری اور ماحول دوست سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، اور شہری ٹرانسپورٹ کے شعبے میں انقلابی تبدیلی کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات جاری رکھے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سندھ حکومت گرین لائن کے لیے
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔