پاکستانی ڈرامے نیٹ فلکس اور ایمازون پر، احسن اقبال کے بیان پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستانی ڈرامے دنیا بھر میں پسند کیے جاتے ہیں لیکن پھر بھی عالمی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ایمازون اور نیٹ فلکس سے غائب ہیں۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستانی ڈراموں اور فلموں میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ نیٹ فلکس اور ایمازون جیسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر جگہ بنا سکیں۔ پاکستانی شوبز انڈسٹری کے ممتاز پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز کے ساتھ ایک میٹنگ میں انہوں نے فلمی ہدایتکاروں اور پروڈیوسرز پر زور دیا کہ وہ کہانیوں میں منفی رجحانات کی حوصلہ شکنی کریں اور جدید طرزِ کہانی کو فروغ دیں۔
View this post on Instagram
A post shared by DIVA Magazine Pakistan (@divamagazinepakistan)
پاکستانی ڈراموں کے ایمازون اور نیٹ فلکس پر نشر کیے جانے کے بیان پر سوشل میڈیا صارفین احسن اقبال کا مذاق اڑاتے نظر آئے۔ ایک صارف نے کہا کہ ساری دنیا کو ساس، بہو کی سازشوں پر لگا دو جبکہ ایک صارف کا کہنا تھا کہ پاکستانی ڈرامے ہمارے ٹی وی پر لگنے کے قابل نہیں وہ نیٹ فلکس پر کیسے لگیں گے۔
ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ سال میں صرف ایک نیا ڈرامہ آتا ہے باقی تو ہی ساس، بہو کی روایتی کہانیاں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نیٹ فلکس کی آڈینس ایسے ڈرامے بالکل بھی نہیں دیکھے گی۔ اقرا نامی صارف لکھتی ہیں کہ ’ساس بہو کے ڈرامے دیکھانے ہیں یا مردوں کا ظلم‘۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احسن اقبال ایمازون پاکستانی ڈرامے نیٹ فلکس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: احسن اقبال ایمازون پاکستانی ڈرامے نیٹ فلکس پاکستانی ڈرامے کہنا تھا کہ احسن اقبال نیٹ فلکس کا کہنا
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔