پنجاب کی سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے دعویٰ کیا ہے کہ ’بلوچستان حق دو تحریک‘ کے حوالے سے حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو چکے ہیں۔ اب جماعت اسلامی کے رہنماؤں پر مشتمل وفد اسلام آباد روانہ ہو گا۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ ’ہم جماعت اسلامی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ایک پرامن، تعمیری اور مثبت کردار ادا کیا۔ مذاکرات نتیجہ خیز رہے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے پا گیا ہے۔‘

وزیر موصوفہ نے مزید کہا کہ بلوچستان حق دو مارچ کے شرکاء اب لاہور پریس کلب کی جانب روانہ ہوں گے، جہاں وہ پرامن طریقے سے اپنے مؤقف کو اجاگر کریں گے۔ ہم نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ مظاہرین کے تمام جمہوری و آئینی حقوق کا احترام ہو۔

یہ بھی پڑھیے سرحد کی بندش اور لاپتا افراد کی عدم بازیابی پر مولانا ہدایت الرحمان کا اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان

پنجاب حکومت کی میزبانی

مریم اورنگزیب نے اعلان کیا کہ پنجاب حکومت بلوچ بھائیوں کی مکمل میزبانی کرے گی اور انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے  کہا کہ یہ ہمارے بھائی ہیں، ان کے تحفظ، سہولت اور عزت کا خیال رکھنا ہماری اخلاقی و آئینی ذمہ داری ہے۔

یاد رہے کہ آج صبح ’بلوچستان حق دو مارچ‘ کے شرکاء اور پولیس کے درمیان جماعت اسلامی پاکستان کے ہیڈکوارٹر منصورہ کے باہر اس وقت تصادم کی کیفیت پیدا ہو گئی جب مظاہرین نے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی، جس پر صورتحال کشیدہ ہو گئی، تاہم قائدین کی مداخلت پر تصادم رک گیا۔

یہ بھی پڑھیے بلوچستان حق دو مارچ: منصورہ سے باہر نکلنے کی کوشش پر مظاہرین کا پولیس سے تصادم

پنجاب حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ گزشتہ روز سے جاری تھا۔ مذاکراتی ٹیم کی قیادت سینئر وزیر مریم اورنگزیب کر رہی تھیں، جب کہ دیگر اراکین میں وزیر قانون ملک صہیب بھرتھ اور خواجہ سلمان رفیق شامل تھے۔

جماعت اسلامی کی طرف سے نائب امیر لیاقت بلوچ، سیکرٹری جنرل امیر العظیم اور امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمان بلوچ مذاکرات میں شریک ہیں۔

جماعت اسلامی کی قیادت کا مؤقف

قبل ازیں جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کراچی سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے منصورہ  کے محاصرہ کو غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ:

’پرامن سیاسی جمہوری جدوجہد ہمارا آئینی حق ہے، اور مظاہرین کو اسلام آباد جانے سے روکنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔‘

جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا تھا کہ حافظ نعیم الرحمان جلد پشاور میں امن جرگہ پروگرام سے فراغت کے بعد مارچ کی قیادت سنبھالیں گے۔

ملک گیر احتجاج کی وارننگ

حافظ نعیم الرحمان نے خبردار کیا تھا کہ اگر حکومت نے رویہ نہ بدلا تو جماعت اسلامی ملک گیر احتجاج کی کال دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام کے جائز مطالبات کو طاقت سے دبانا ناقابل قبول ہے۔

یہ بھی پڑھیے جماعت اسلامی بلوچستان کا لانگ مارچ رکاوٹیں عبور کرتے اسلام آباد کی جانب رواں دواں

یاد رہے کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے ’بلوچستان حق دو تحریک‘ کے شرکاء کا یہ مارچ ج بلوچستان کے عوام کے حقوق، جبری گمشدگیوں، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور آئینی تحفظات کے لیے جاری ہے۔ مظاہرین جمعہ کو کوئٹہ سے روانہ ہوئے، اب لاہور پہنچ چکے ہیں جہاں سے وہ اسلام آباد کی طرف مارچ کرنا چاہتے ہیں تاکہ اپنے مطالبات مرکزی حکومت کے سامنے پیش کر سکیں۔ تاہم حکومت انہیں اسلام آباد کی طرف آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلوچستان حق دو تحریک جماعت اسلامی لانگ مارچ مریم اورنگزیب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان حق دو تحریک جماعت اسلامی لانگ مارچ مریم اورنگزیب جماعت اسلامی کے بلوچستان حق دو مریم اورنگزیب پنجاب حکومت اسلام آباد کے درمیان لانگ مارچ تھا کہ کی طرف

پڑھیں:

واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار

واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔

یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.

???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS

— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026

تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی

اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن

متعلقہ مضامین

  • کسان کارڈ سے کاشتکار سر اٹھا کر جیئے گا: مریم نواز
  • اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع