کراچی رہنے کی نہیں سہنے کی جگہ بن چکا، جینے مرنے کی بھی سہولت نہیں ہے‘
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
کراچی :رہنما متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) خواجہ اظہار الحسن کا کہنا ہے کہ کراچی رہنے کی نہیں سہنے کی جگہ بن چکا ہے۔
پریس کانفرنس میں خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ کراچی کے ساتھ تسلسل سے زیادتی ہو رہی ہے، شہر کو اجاڑ دیا گیا ہے، یہ اب رہنے کی نہیں بلکہ سہنے کی جگہ بن چکا ہے، ورلڈ بینک کے پیسے کہاں لگ رہے ہیں کسی کو معلوم نہیں۔
رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ کراچی نے گزشتہ سال وفاق کو 1 ہزار ارب روپے سے زائد ٹیکس دیا لیکن یہاں جینے اور مرنے کی سہولیات بھی ناپید ہو چکی ہیں، اسکولوں کی تعلیم تباہ حال، تعلیم اور صحت کا سودا ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں کراچی کو خاص طور پر ٹارگٹ کیا گیا ہے، شہر قائد کو مزید مشکلات میں ڈالنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی لیکن ہمارے سندھ اسمبلی ارکان نے اس منصوبے کو ناکام بنایا۔
خواجہ اظہار الحسن نے مزید کہا کہ ٹیکس لگا کر 20 ہزار کا بل 32 ہزار کا آتا ہے، کے-الیکٹرک کو حوصلہ دے دیا گیا ہے کہ چوری کرو ہمارے پیسے پہلے دو۔
ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو کرائے بھی بڑھ جاتے ہیں، بجلی کے بلوں میں چارجز اور ٹیکسز کی بھر مار ہے، بیس ہزار کا بل چالیس ہزار کا ہو جاتا ہے، پیپلز پارٹی نے کے-الیکٹرک کو شہ دی ہے۔
رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کہتے ہیں ملک میں ڈالر آنا چاہیے، جب پیٹرول اتنا مہنگا ہے تو ملک میں سرمایہ کاری کیسے ہوگی؟
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔