میاں بیوی پر مشتمل ڈکیت گروپ، غیرملکیوں کو کیسے لوٹتا تھا؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
ملیر سٹی پولیس نے معلومات کی بنیاد پر تھانہ کلفٹن کے حدود میں ڈکیتییوں میں ملوث گروہ کے سرغنہ کو گرفتار کرلیا، ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق پیرزادہ کے مطابق غیر ملکی شہری کے گھر ڈکیتی میں ملوث گروہ کا سرغنہ گرفتار کیا ہے جبکہ واردات میں ملوث بیوی بھی شریک جرم نکلی۔ ملیر سٹی پولیس نے انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے کلفٹن تھانے کی حدود میں گھریلو ڈکیتی کی واردات میں ملوث گروہ کے سرغنہ کو گرفتار کیا۔
ایس ایس پی ملیر کے مطابق ملزم کراچی کے مختلف علاقوں میں گھروں میں چوری و ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے، ملزم ملیر سٹی کے علاقے میں خفیہ طور پر روپوش تھا، جہاں چھاپہ مار کر اسے گرفتار کیا گیا۔
ایس ایس پی ملیر کے مطابق دورانِ تفتیش ملزم نے انکشاف کیا کہ اس کی بیوی وارداتوں میں ملوث ہوتی تھی، گرفتار ملزم کی بیوی گھروں میں ملازمہ کے طور پر کام حاصل کرتی، معلومات اکٹھی کرتی اور پھر ملزم کے ساتھ واردات انجام دیتی۔
ملزمان نے کلفٹن کے علاقے میں واقع ایک غیر ملکی شہری زو باؤ شینگ کے گھر سے لاکھوں روپے مالیت کا کیش، زیورات اور قیمتی سامان لوٹا اور فرار ہوگئے تھے، متاثرہ غیر ملکی شہری زو باؤ شینگ کی مدعیت میں تھانہ کلفٹن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
گرفتار ملزم کی شناخت محمد فیاض کے نام سے ہوئی، ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ اور اس کی بیوی حلیہ بدل کر وارداتیں کرتے اور بعد ازاں اندرون ملک فرار ہوجاتے۔ پولیس کی جانب سے دیگر فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، جبکہ گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: میں ملوث
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔