’ڈھاک کے تین پات‘: کسی عالمی رہنما نے آپریشن سندور روکنے کو نہیں کہا تھا، نریندر مودی
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن بحال کرانے کے متعدد دعووں کے باوجود ایک بار پھر اس بات کی تردید کی ہے کہ پاک بھارت جنگ رکوانے میں کسی تیسرے فریق کا ہاتھ نہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کے کسی بھی رہنما نے بھارت کو آپریشن سندور روکنے کو نہیں کہا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے 27ویں بار پاک بھارت جنگ رکوانے کا تذکرہ کردیا
لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا انہوں نے انکشاف کیا کہ 9 مئی کی رات امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے انہیں 3 سے 4 بار کال کی اور جب رابطہ ہوا تو مودی نے وینس کو واضح طور پر کہا کہ اگر پاکستان بھارت پر حملہ کرتا ہے تو اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔
مودی نے بتایا کہ 9 مئی کی رات امریکی نائب صدر مجھے کال کرنے کی کوشش کر رہے تھے مگر میں اپنی فوج کے ساتھ میٹنگ میں تھا اس لیے فون نہیں اٹھا سکا۔ بعد میں کال بیک کیا اور پوچھا کہ آپ نے 3-4 بار فون کیا تھا۔ پھر انہوں نے بتایا کہ پاکستان بڑا حملہ کرنے والا ہے۔ میں نے کہا اگر پاکستان نے ایسا کیا تو اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ ہم گولیوں کا جواب شیل سے دیں گے۔
مزید پڑھیے: پاکستان اور بھارت کو بتا دیا تھا جنگ نہ روکنے پر امریکا آپ سے تجارت نہیں کرےگا، ڈونلڈ ٹرمپ
مودی کے اس دعوے کے باوجود امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بار بار یہ کہا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کرانے میں کردار ادا کیا ہے جس پر حکومت بھارت کی طرف سے واضح کیا گیا کہ 10 مئی کو جو سمجھوتا ہوا، وہ براہ راست دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان تھا اور کسی تیسرے فریق کا کوئی دخل نہیں تھا۔
مودی کے خطاب سے پہلے کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے ٹرمپ کے دعوے کو چیلنج کیا اور کہا کہ ٹرمپ نے جنگ بندی کا سہرا اپنے سر کم از کم 29 بار باندھا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارتی طیارے نہیں گرے تو مودی کہیں ٹرمپ جھوٹ بول رہا ہے، راہول گاندھی کا چیلنج
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، جو کہ دہشت گرد حملے کے پیچھے قرار دیے جاتے ہیں، ٹرمپ کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پاک بھارت تنازع مودی کی رَٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پاک بھارت تنازع مودی کی ر ٹ ڈونلڈ ٹرمپ انہوں نے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔