آپریشن سندور پر مودی حکومت کی پالیسی ناکام رہی، راہل گاندھی
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
بھارتی وزیر دفاع کی تقریر کے ایک حصے کا حوالہ دیتے ہوئے راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ بھارتی حکومت نے پاکستانی حکومت کو آگاہ کیا کہ ہمارے پاس سیاسی ارادہ نہیں ہے، ہم نہیں لڑیں گے، یعنی 35 منٹ میں ہتھیار ڈال دیے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ اگر وزیراعظم نریندر مودی میں اندرا گاندھی کی 50 فیصد بھی ہمت ہے تو انہیں ایوان میں کہنا چاہیئے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کا دعویٰ کرنے والے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جھوٹ بولا ہے۔ آپریشن سندور پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کانگریس کے سابق صدر نے یہ بھی الزام لگایا کہ طیاروں کا نقصان حکومت میں سیاسی عزم کی کمی کی وجہ سے ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر 29 بار کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے جنگ بندی کرائی ہے، اگر وہ غلط ہیں تو وزیراعظم کو یہاں ایوان میں کہنا چاہیئے کہ ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں، اگر وزیر اعظم میں اندرا گاندھی جیسی ہمت ہے تو وہ یہاں کہہ دیں کہ ٹرمپ جھوٹے ہیں۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ اگر وزیراعظم میں اندرا گاندھی کی 50 فیصد بھی ہمت ہے تو انہیں ٹرمپ کے بیان کو مسترد کر دینا چاہیئے۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پہلگام میں ایک بے رحم اور وحشیانہ حملہ کیا گیا جس کی منصوبہ بندی پاکستان نے کی تھی۔
راہل گاندھی نے کہا کہ اس ایوان میں موجود ہر فرد نے پاکستان کی مذمت کی، جیسے ہی آپریشن سندور شروع ہوا، تمام اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنی مسلح افواج اور بھارت کی منتخب حکومت کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہوں گے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ اپوزیشن کے طور پر ہم اس طرح متحد رہے جس طرح ہمیں ہونا چاہیئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم مسلح افواج کے لوگوں سے مصافحہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہندوستانی فوج کا آدمی ہے، ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ شیر ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ آپ شیر کو نہیں باندھ سکتے، دو الفاظ ہیں، ایک سیاسی مرضی اور دوسرا آپریشن کی مکمل آزادی۔
بھارتی وزیر دفاع کی تقریر کے ایک حصے کا حوالہ دیتے ہوئے راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ بھارتی حکومت نے پاکستانی حکومت کو آگاہ کیا کہ ہمارے پاس سیاسی ارادہ نہیں ہے، ہم نہیں لڑیں گے، یعنی 35 منٹ میں ہتھیار ڈال دیے گئے۔ ایک افسر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے ہمارے پائلٹ کو کہا کہ وہ پاکستان کے فضائی دفاعی نظام پر حملہ نہ کرے، اس کا مطلب ہے کہ پائلٹ کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ بھارتی فضائیہ نے کوئی غلطی نہیں کی، غلطی سیاسی قیادت سے ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایئر فورس کو کسی بھی طرح ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ حکومتی سطح پر اس مشق کا مقصد وزیراعظم کی شبیہ کو بچانا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے نے دعوی لیڈر نے کیا کہ
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔