امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو دی گئی 50 روزہ مہلت کم کر کے 10 سے 12 دن کر دی ہے۔

اس سے قبل انہوں نے روس کو 2 ستمبر تک جنگ ختم نہ کرنے کی صورت میں سخت معاشی پابندیوں کی دھمکی دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی روس کو یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے مختصر مہلت، ایران کو بھی دھمکی دیدی

اسکات لینڈ میں برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ پیوٹن نے بار بار وعدہ خلافی کی، اور شہری علاقوں پر حملے جاری رکھے۔

ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ نئی مہلت کا اعلان جلد کیا جائے گا اور روس پر اضافی پابندیاں اور ممکنہ ثانوی ٹیرف بھی عائد کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے روسی عوام کے لیے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مزید جانی نقصان نہیں چاہتے، لیکن پیوٹن کے رویے سے مایوسی ہوئی ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اب پیوٹن سے مزید فون کالز کے خواہاں نہیں کیونکہ بات چیت کے بعد بھی جنگ جاری رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹریاٹ میزائل کیا ہیں، اور یوکرین کو ان کی اتنی اشد ضرورت کیوں ہے؟

پہلے دن یا 100 دن میں جنگ ختم کرنے کے وعدے کے بعد ٹرمپ کی نئی ڈیڈ لائن کو ماہرین ایک نرمی تصور کر رہے ہیں۔ اس دوران وائٹ ہاؤس کے اندر بھی ماسکو کے رویے پر بے چینی بڑھ رہی ہے۔

ٹرمپ جلد یوکرین کے لیے نئی فوجی امدادی پیکیج کا اعلان کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی صدر پیوٹن ٹرمپ صدر ٹرمپ یوکرین جنگ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا امریکی صدر پیوٹن یوکرین جنگ جنگ ختم کرنے کے یوکرین جنگ کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل