چرچ اور ریاست کی حد مٹانے کی کوشش؟ ٹرمپ حکومت کا متنازع فیصلہ کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
امریکا میں وفاقی ملازمین کو اب دفتر میں اپنے ساتھیوں کو مذہب کی دعوت دینے کی اجازت ہوگی، بشرطیکہ یہ عمل ہراساں کرنے کے دائرے میں نہ آئے۔
یہ بھی پڑھیں:’وہ عیسائی نہیں ہوسکتا‘ پوپ فرانسس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں ایسا کیوں کہا؟
امریکی آفس آف پرسنل مینجمنٹ کے سربراہ اسکاٹ کوپر کی جانب سے جاری کی گئی نئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ مذہبی اظہار آئینی طور پر تحفظ یافتہ ہے، اور سپروائزرز سمیت تمام ملازمین کو مذہبی گفتگو کا مساوی حق حاصل ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ ملازمین اپنے عقائد کی درستگی پر دوسروں کو قائل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں اور ساتھیوں کو دعا یا مذہبی سرگرمیوں میں شریک ہونے کی دعوت بھی دے سکتے ہیں۔
اس میں یہ وضاحت بھی کی گئی کہ کوئی ملازم انکار کرے تو اس پر دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا۔
حکم نامے میں عوامی خدمات انجام دینے والے ملازمین کے لیے بھی رہنمائی دی گئی ہے، جیسے کہ نیشنل پارک رینجر یا ویٹرنز افیئرز ہسپتال کا ڈاکٹر، جو عوام یا مریض کے ساتھ دعا میں شامل ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ یہ ذاتی حیثیت میں ہو۔
یہ بھی پڑھیں:پوپ کی رحلت: ٹرمپ نے قومی پرچم سرنگوں رکھنے کا حکم دے دیا
ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ امریکہ میں مذہبی آزادی پر حملے ہو رہے ہیں، جن کے خلاف یہ اقدام ایک ردعمل ہے۔
ناقدین اسے چرچ اور ریاست کی علیحدگی کے اصول کے خلاف قرار دے رہے ہیں اور صرف عیسائیت کو فروغ دینے کی کوشش سمجھتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ٹرمپ چرچ مذہبی آزادی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔