ائیر انڈیا حادثہ: بھارت نے برطانیہ میں لواحقین کو غلط لاشیں بھجوا دیں
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
نئی دہلی: ائیر انڈیا کے احمد آباد حادثے کے بعد بھارت کی جانب سے جاں بحق مسافروں کی شناخت میں سنگین غلطی سامنے آئی ہے، جس کے نتیجے میں برطانیہ میں متاثرہ خاندانوں کو ان کے پیاروں کی جگہ اجنبی افراد کی باقیات بھجوا دی گئیں۔
برطانوی میڈیا کے مطابق حادثے میں مرنے والوں کی لاشوں کی شناخت درست طریقے سے نہیں کی گئی، اور جب تابوت برطانیہ پہنچے تو کئی خاندانوں نے دعویٰ کیا کہ ان میں موجود لاشیں ان کے عزیزوں کی نہیں تھیں۔
ایک متاثرہ شخص، متن پٹیل، نے بتایا کہ اسے والدہ کی لاش کے بجائے کسی اور شخص کی باقیات دی گئیں، حالانکہ حادثے میں اس کے والد اور والدہ دونوں جاں بحق ہو گئے تھے۔
اس افسوسناک غلطی پر بھارت اور برطانیہ میں اعلیٰ سطحی تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ جانا جا سکے کہ لاشوں کی شناخت میں یہ فاش غلطی کیسے ہوئی۔
واضح رہے کہ 12 جون کو احمد آباد سے لندن جانے والا ائیر انڈیا کا طیارہ اڑان کے فوراً بعد گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ طیارے میں 242 افراد سوار تھے، جن میں سے 241 ہلاک ہو گئے، جن میں 53 برطانوی شہری شامل تھے۔ صرف ایک مسافر زندہ بچا تھا جو کہ 11-اے سیٹ پر بیٹھا تھا۔ طیارہ ایک میڈیکل کالج کی عمارت پر گرنے سے مزید 19 افراد بھی جاں بحق ہو گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔