روس سے تیل کی خریداری امریکا اور بھارت کے تعلقات میں ’چبھتا ہوا نکتہ‘ بن چکا، مارکو روبیو
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ بھارت ایک اسٹریٹجک اتحادی ہے، لیکن دونوں ممالک ہر معاملے پر مکمل اتفاق نہیں رکھتے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی برآمدات پر 25 فیصد ٹیرف اور روس سے تیل و اسلحہ خریدنے پر اضافی سزا کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی آئل ریفائنری پر یورپی یونین کی پابندیاں، وجہ کیا بنی؟
مارکو روبیو کے مطابق بھارت کا سستا روسی تیل خریدنا یوکرین میں روس کی جنگی کوششوں کو سہارا دے رہا ہے، جو امریکا اور بھارت کے تعلقات میں ’چبھتا ہوا نکتہ‘ بن چکا ہے۔
امریکا کا کہنا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ تعاون کے دیگر پہلوؤں پر کام جاری رکھے گا، مگر روس سے توانائی اور دفاعی خریداری پر تحفظات برقرار رہیں گے۔
دوسری جانب بھارت نے کہا ہے کہ وہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا اور امریکا کے ساتھ متوازن تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیرخارجہ بھارت روس روسی تیل مارکو روبیو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی وزیرخارجہ بھارت روسی تیل مارکو روبیو مارکو روبیو
پڑھیں:
امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔