پاکستان کے حمزہ خان ویلینشیا اوپن اسکواش کے سیمی فائنل میں پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
پاکستان کے نوجوان اسکواش اسٹار حمزہ خان نے اسپین میں جاری ویلینشیا اوپن ٹورنامنٹ میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے سیمی فائنل میں جگہ بنا لی۔
15 ہزار ڈالرز انعام کے اس بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں حمزہ نے اپنی برتری کا لوہا منوایا۔
کوارٹر فائنل میں حمزہ خان نے فرانس کے ساتویں سیڈ برائس نکولز کو برتری کا کوئی موقع دیے بغیر 3-0 سے شکست دی۔ میچ کے تینوں سیٹس 13-11، 11-2 اور 11-6 کے اسکور سے حمزہ کے نام رہے۔ صرف 42 منٹ میں مکمل ہونے والے اس میچ میں پاکستانی کھلاڑی کی برتری ہر لمحہ واضح رہی۔
اس سے قبل بدھ کو دوسرے راؤنڈ کے میچ میں حمزہ نے مصر کے تیسرے سیڈ یاسین الشفیع کو بھی 3-0 سے ہرایا تھا۔ ان کامیابیوں نے حمزہ خان کو ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل تک پہنچا دیا ہے، جہاں وہ ایک اور بین الاقوامی کھلاڑی سے مقابلہ کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں۔
اپنے تازہ بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے جس طرزِ عمل پر عمل پیرا ہے، اسے مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سفارتی حل اور معاہدہ ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے تعطل سے متعلق خبروں کو بھی مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض اطلاعات کے برعکس دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور بات چیت مسلسل جاری ہے اور مذاکرات کا عمل رکا نہیں ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی گفتگو مختلف معاملات پر جاری ہے، تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مذاکرات کا حتمی نتیجہ کیا نکلے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت کوئی بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ یہ مذاکرات کس سمت جائیں گے یا ان کا اختتام کس نوعیت کے معاہدے پر ہوگا، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔
ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے، جوہری پروگرام، علاقائی کشیدگی اور اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
عالمی مبصرین کی نظریں بھی دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر مرکوز ہیں کیونکہ کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاست پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔