ملک بھرمیں ساڑھے چارسال کے دوران 79 خود کش حملے، 690 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2025ء) ملک بھر میں گزشتہ ساڑھے چار سال کے دوران 79 خودکش حملے ہوئے جن میں 690 جاں بحق اور 1300 سے زائد زخمی ہوئے۔خیبرپختونخوا میں 54، بلوچستان میں 19، سندھ میں 4 اور پنچاب میں ایک خودکش حملہ ہوا، خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا جبکہ بلوچستان دوسرے نمبر پر متاثر صوبہ رہا۔
(جاری ہے)
2025 کے پہلے چھ ماہ میں 13 خودکش حملے ہوئے، جن میں 103 افراد جاں بحق اور 230 افراد زخمی ہوئے، 2024 میں 17 خود کش دھماکے ہوئے جن میں 139 جاں بحق اور 134 افراد زخمی ہوئے۔
اسی طرح 2023 میں 29 حملوں میں 329 افراد جاں بحق اور 582 زخمی ہوئے جبکہ 2022 میں ان حملوں کی تعداد 15 رہی جن میں 101 افراد جاں بحق اور 290 افراد زخمی ہوئے تھے۔2021 میں سب سے کم حملے ہوئے، اس سال صرف چار حملے ہوئے تھے جن میں 15 افراد جاں بحق اور 41 افراد زخمی ہوئے تھے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے افراد جاں بحق اور افراد زخمی ہوئے حملے ہوئے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک