پُرانے آئی فونز میں یو ایس بی-سی پورٹ شامل کرنے والا ’کیس‘ متعارف
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
ایپل کی مصنوعات میں تبدیلیاں کرنے کے لیے مشہور ایک انجینئر نے پرانے آئی فونز کے لیے ایک نئی ایسیسری متعارف کرائی ہے جو لائٹننگ بیسڈ ڈیوائسز میں کسٹم ڈیزائن کیس کے ذریعے فعال یو ایس بی-سی پورٹ شامل کرتی ہے۔ سوئٹزر لینڈ کے روبوٹک انجینئر کین پِلونیل نے ایک کمرشل پروڈکٹ متعارف کرائی ہے جو کسی اندرونی تبدیلی کے بغیر لائٹننگ بیسڈ آئی فونز میں یو ایس بی-سی چارجنگ اور ڈیٹا ٹرانسفر کو ممکن بناتی ہے۔ ‘اوبسولیس’ کے نام سے فروخت ہونے والی یہ ایسیسری دو حصوں پر مشتمل ایک کیس ہے جو ایک کسٹم سرکٹ بورڈ اور یو ایس بی-سی کنیکٹر کو جوڑتا ہے۔یہ پروڈکٹ 9 والٹ فاسٹ چارجنگ، ڈیٹا ٹرانسفر اور ایپل کار پلے کے ساتھ مکمل مطابقت فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔
انجینئر کا یہ پروجیکٹ ان کے ایئر پوڈز یو ایس بی-سی کیسز کے حوالے سے کیے ابتدائی کام کی بنیاد پر مبنی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: یو ایس بی سی
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔