پاکستان نے بھارتی ویب سائٹس اور میڈیا کو بھارتی طیارے کی طرح گرادیا، فیصل واؤڈا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
سینیٹر فیصل واؤڈا نے کہا ہے کہ پاکستان نے بھارتی ویب سائٹس اور میڈیا کو بھارتی طیارے کی طرح گرا دیا۔
فیصل واؤڈا نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ آرمی چیف کی بدولت پاکستان نے بھارتی ویب سائٹس اور انڈین چینلز پاکستان میں بلاک کر دیے۔
امریکا میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ بھارت نے حملہ کیا تو 2 ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ خطرناک صورتحال اختیار کرسکتی ہے۔
فیصل واؤڈا کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں انڈین ویب سائٹس اور ٹاپ ٹی وی چینلز پاکستان میں بلاک کردیے گئے، پاکستان نے انٹرنیشنل پلیٹ فارمز ملک میں نہ ہونے کے باوجود ایسا کیا۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو ہر سطح پر منہ توڑ جواب دیا، مزید بھارتی چینلز بھی بلاک کریں گے، پاکستان سود سمیت وصولی کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ویب سائٹس اور فیصل واؤڈا پاکستان نے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔