کراچی:

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی پر پاکستان کی فارما انڈسٹری بھارت سے ادویات میں استعمال ہونے والا خام اور دیگر حفاظتی ویکسین نہیں منگوائیں گے اور ملک کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے متبادل ممالک سے خام مال اور دیگر ویکسین باآسانی درآمد کرلی جائے گی جبکہ گزشتہ برس بھارت سے 305 ملین ڈالر کا خام مال درآمد کیا گیا۔

پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگ ایسوسی ایشن نے کہا کہ حکومت پاکستان نے بھارت سے کسی بھی قسم کی تجارت ختم کرنے کا صرف اعلان کیا ہے تاہم ابھی تک وفاقی حکومت نے اس حوالے سے کوئی نوٹیفیکشن جاری نہیں کیا۔

پاکستان آج تک پولیو سمیت کسی بھی قسم کی حفاظتی ویکسین بنانے سے قاصر ہے، 30 سال گزرنے کے باوجود بچوں کی حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام ای پی آئی میں شامل 13 مختلف بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین بھی بیرون ممالک سے درآمد کی جاتی ہے۔

چاروں صوبوں میں ویکسین بنانے کے پلانٹس بھی لگائے جاسکتے ہیں جبکہ پاکستان کے پاس ویکسین ریسرچر اور دیگر فنی ماہرین بھی موجود ہیں، المیہ یہ ہے کہ 2019 میں کوویڈ کی لہر کے دوران بھی پاکستان نے اربوں روپے کی ویکسین مختلف ممالک سے درآمد کی۔

پاکستان میں شوگر کے مریضوں کو لگائی جانے والی انسولین، اینٹی ربیز(کتے کے کاٹنے کے علاج میں لگائی جانے والی ویکسین)، اینٹی اسنیک ویکسین سمیت دیگر ویکسین بھارت سے درآمد کی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق جب بھارت میں یہ ویکسین اور خام مال تیار کیا جاسکتا ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں کیا جاسکتا۔

پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگ ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالصمد بھوٹانی نے بتایا کہ 2024 میں پاکستان نے بھارت سے 305 ملین ڈالر کا خام مال امپورٹ کیا تھا، بھارت سے اینٹی اسنیک، اینٹی ربیز سمیت دیگر ویکسین یورپین ممالک کے مقابلے میں بہت سستی درآمد کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے بھارت سے تجارت نہ کرنے کا صرف اعلان کیا گیا ہے ابھی تک اس حوالے سے کوئی نوٖٹیفیکشن جاری نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ اگر نوٹیفیکشن جاری ہوا تو ہم متبادل مملک سے ادویات، ویکسین اور خام مال حاصل کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت سارے ممالک ایسے ہیں جہاں سے ہم خام مال اور میڈیکل ڈیوائسز حاصل کرسکتے ہیں، اس حوالے سے ہماری ایسوسی ایشن نے مختلف ممالک سے رابطے کررکھے ہیں تاکہ ملک میں ممکنہ ایمرجنسی کی صورت میں کسی بھی قسم کی ادویات کی قلت نہ ہو۔

عبدالصمد بھوٹانی نے واضح کیا کہ پاکستان میں ادویات میں ہونے والا خام مال اور ضروری ادویات کا اسٹاک موجود ہے، اس میں کوئی پریشانی والی بات نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ بھارت سب سے سستی اینٹی ربیز، اینٹی اسنیک، نمونیا سمیت دیگر ویکسین بناتا ہے، اس لیے امپورٹرز حضرات بھار ت سے منگوانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاک-بھارت کشیدگی کے بعد ملک کی فارما انڈسٹری اس صورت حال کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے اور ہم عوام کو مایوس نہیں ہونے دیں گے۔

سابق ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر اکرام سلطان نے بتایا کہ پاکستان میں 70 سال گزرنے کے باوجود بھی ادویات میں استعمال ہونے والا خام مال تیار نہیں کیا جاسکا جبکہ پاکستان میں 1500 ادویات بنانے والے کمپنیاں کام کررہی ہیں۔

انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے دوا سے متعلق آج تکpharmacopoeia  بھی نہیں بنائی جاسکی۔

ڈاکٹر اکرام سلطان نے کہا کہ پاکستان میں ادویات میں استعمال ہونے والا خام مال چین سے 55 فیصد اور بھارت سے 45 فیصد درآمد کیا جاتا ہے کیونکہ ان دونوں ممالک کے مقابلے میں یورپین ممالک سے منگوایا جانے والا خام مال بہت مہنگا پڑتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ادویات میں استعمال ہونے والا ایک ہی خام مال مہنگا اور سستا کیوں ہوتا ہے، بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے فارما ادارے خام مال بنانے میں توجہ نہیں دیتے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے بھارت میں ادویات میں استعمال ہونے والے خام مال کی تھرڈ پارٹی سے خریداری کے اعلان پر عمل درآمد کیا تو اس سے ملک میں ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے گا کیونکہ بھارت سے خریدا جانے والا خام مال دیگر ممالک میں مقابلے سستا اور جلد دستیاب ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ادویات میں استعمال ہونے والا خام مال دوسرے ممالک سے خریدا گیا تو اس کے لیے امپورٹرز کو زیادہ قیمیتں ادا کرنی پڑیں گی اور اس کے حصول میں وقت بھی زیادہ لگے گا۔

ڈاکٹر اکرام سلطان نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں دواؤں میں استعمال ہونے والاخام مال کا 50 فیصد بھارت سے درآمد کیا جاتا ہے، پاکستان میں دواؤں کی تیاری سے 1500 مینوفیکچرنگ یونٹس ہیں لیکن 70 سال گزرنے کے باجود ملک میں اب تک دواؤں میں استعمال ہونے والے خام مال کی تیاری کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے جس کی وجہ سے ہر سال ملک کا قیمتی زرمبادلہ بیرون ملک منتقل ہوجاتا ہے۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان ہونے والا خام مال کہ حکومت پاکستان انہوں نے کہا کہ کہ پاکستان میں ایسوسی ایشن سے درآمد کی میں ادویات پاکستان نے پاکستان کی درآمد کیا نہیں کیا ممالک سے بھارت سے

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا