اسپین نے اسرائیل کے ساتھ 825 ملین ڈالر کے اسلحہ معاہدے منسوخ کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
اسپین کی حکومت نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے ردعمل میں اسرائیل سے اسلحہ کی خریداری کے بڑے معاہدے منسوخ کر دیے ہیں۔ فیصلے کے تحت 825 ملین ڈالر (قریباً 700 ملین یورو) مالیت کے راکٹ لانچر سسٹمز اور 287 ملین یورو کے اینٹی ٹینک میزائل لانچر معاہدے منسوخ کیے گئے ہیں۔
غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق یہ معاہدے اسرائیلی کمپنی ایل بٹ سسٹمز کے تیار کردہ پلس پلیٹ فارم سے ماخوذ 12 ایس آئی ایل اے ایم راکٹ لانچر سسٹمز اور 168 اینٹی ٹینک لانچر کی خریداری سے متعلق تھے۔
یہ پیشرفت اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز کی جانب سے گذشتہ ہفتے اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے کہ ان کی حکومت اسرائیل کے ساتھ فوجی سازوسامان کی فروخت اور خریداری پر قانونی پابندی عائد کرے گی۔
مزید پڑھیں: اسپین کا عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف فریق بننے کا اعلان
سانچیز نے اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں کو ’نسل کشی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسپین کسی بھی ایسے معاہدے کا حصہ نہیں ہوگا جو اسرائیلی جارحیت کو سہارا دے۔
رپورٹس کے مطابق اسپین کی وزارت دفاع اسرائیلی ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کو مسلح افواج سے مرحلہ وار ختم کرنے کا جامع جائزہ لے رہی ہے۔
خیال رہے کہ اسپین یورپ میں ان چند ممالک میں شامل ہے جو اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی غزہ پالیسی کے سب سے زیادہ ناقد سمجھے جاتے ہیں۔
2024 میں اسپین نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہو گئے اور اسرائیل نے اپنا سفیر میڈرڈ سے واپس بلا لیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپین اسرائیل اسلحہ معاہدے منسوخ سانچیز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپین اسرائیل اسلحہ معاہدے منسوخ سانچیز معاہدے منسوخ
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔