اسپین کا اسرائیل اور روس کی عالمی کھیلوں میں شرکت پر پابندی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
میڈرڈ میں ہسپانوی وزیراعظم پیدرو سانچیز نے کہا ہے کہ یوکرین اور غزہ میں جاری جنگوں کے دوران وحشیانہ اقدامات رکنے تک اسرائیل اور روس کو بین الاقوامی کھیلوں میں حصہ لینے سے روک دینا چاہیئے۔ اسلام ٹائمز۔ اسپین نے اسرائیل اور روس کی عالمی کھیلوں میں شرکت پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ میڈرڈ میں ہسپانوی وزیراعظم پیدرو سانچیز نے کہا ہے کہ یوکرین اور غزہ میں جاری جنگوں کے دوران وحشیانہ اقدامات رکنے تک اسرائیل اور روس کو بین الاقوامی کھیلوں میں حصہ لینے سے روک دینا چاہیئے۔ سانچیز نے گذشتہ روز میڈرڈ میں فلسطین کے حق میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کی بھی مذمت کی، جن کے باعث سائیکل ریس لا وولٹا کا آخری مرحلہ اور انعامی تقریب منسوخ کرنی پڑی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیل اور روس کھیلوں میں
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔