لاہور:

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے خطے میں پرامن رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ چھڑ گئی تو بھارت کا نقصان پاکستان سے کہیں زیادہ ہوگا۔

لاہور میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہماری عادت ہے ہیروز کو فراموش کردیتے ہیں اور بعد میں ان کی دل کھول کر تذلیل کرتے ہیں، ہم اکثر بات کرتے ہیں کہ تعلیم بہت ضروری ہے لیکن جب ہم پالیسی میکنگ پر جائیں تو اساتذہ کو نظرانداز کردیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے یہاں غلطی اسٹیبلشمٹ یا سول بیورو کریسی کی ہے باقی لوگوں کو بھی نمائندگی دینا ہوگی، پاکستان کے پالیسی میکرز کو اس بارے میں سوچنا چاہیے، تعلیم کے شعبے میں ماہرین تعلیم کو اہمیت دینا ضروری ہے ان کو آگے لانا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری اگلی نسل اردو سے نابلد ہوگئی، گرائمر اسکولوں سے پڑھنے والوں کی نئی کلاس پیدا ہوگئی ہے، اسکولوں میں ہماری زبان اور کلچر سے متعلق کچھ نہیں بتایا جا رہا ہے یہ بھی پالیسی میکرز کا قصور ہے۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آج کل افسوس ناک صورتحال سے پورا خطہ گزر رہا، بھارت میں اکھنڈ بھارت کے حامیوں کواپنی سوچ پر نظر ثانی کرنی چاہیے، ہماری نالائقیوں اور بھارتی سازشوں کے نتیجے میں بنگلہ دیش بن گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نصف دہائی تک بنگلہ دیش سے دور رہے لیکن اب بنگلہ دیش اپنے اصل کی طرف لوٹ آیا ہے، بنگلہ دیش کو بھارت کے اثر میں رکھنے کی سوچ کامیاب نہیں ہوسکی۔

رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود اکھنڈ بھارت کے حامی کشمیریوں کے پاکستان سے رشتے کو کمزور نہیں کر سکے، ایک دوسرے کو فتح کرنے کی سوچ رکھنے کے بجائے مل بیٹھنا چاہیے۔

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں سے متعلق کشمیر میں استصواب رائے پر بات ہونی چاہیے، ہم ایٹم بم بنا چکے ہیں، ہمیں ایٹمی تجربے پر انڈیا نے ہی مجبور کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی قیادت کو سوچنا چاہیے کہ اس طرح کے واقعات پر مجبور نہ کرے، سوچنا ہوگا پہلگام واقعے کا فائدہ مند کون ہے، پاکستان نہیں چاہتا کہ خطے میں لڑائی ہو اور دونوں طرف خون بہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی قیادت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے کب تک پاکستان کو انگیج رکھنا ہے، اگر جنگ چھڑ گئی تو بھارت کا نقصان پاکستان سے کہیں زیادہ ہوگا۔

دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اس کرائسز میں ٹھیک طریقے سے کنڈکٹ کیا ہے، اگر پاکستان غیرجانب درانہ تحقیقات کے لیے تیار ہے تو بھارت کو مثبت رد عمل دینا چاہیے۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ یہ کہتے ہیں نہریں نہیں نکالنے دیں گے، بھائی نہریں کیوں نہیں نکالنے دیں گے، پہلے کالا باغ ڈیم نہیں بننے دیا، ڈیم نہ بنا کر خود کے ساتھ بھی زیادتی کی، اب رو رہے ہیں کہ بجلی مہنگی ہوگئی، سڑکیں بند کرنا دھرنے دینا کوئی طریقہ کار نہیں ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ چولستان کینال کے معاملے پر بھی بات ہونی چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: خواجہ سعد رفیق نے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے بنگلہ دیش نے کہا کہ انہوں نے مسلم لیگ تو بھارت

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ