آزاد جموں و کشمیر بھارت کی جانب سے کشیدگی میں ممکنہ اضافے سے نمٹنے کیلئے تیار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
آزاد جموں و کشمیر میں بھارتی کشیدگی کے خطرے کے پیش نظر وزیر اعظم نے عندیہ دیا ہے کہ اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو ان کی حکومت علاقے میں ایمرجنسی نافذ کرنے پر غور کر رہی ہے۔
نجی اخبار میں شائع خبر کے مطابق جمعرات کو بھی حکام نے سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر سیاحوں کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب وادی نیلم اور دیگر حساس علاقوں میں داخل ہونے سے روک دیا۔
آزاد جموں و کشمیر کی حکومت نے تمام دینی مدارس کو 10 روز کے لیے بند رکھنے کا حکم دیا ہے جبکہ ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز، ریسٹورنٹس اور شادی ہالوں کے مالکان نے وعدہ کیا ہے کہ اگر بھارت حملہ کرتا ہے تو وہ اپنے اداروں کو فوج کے سپرد کر دیں گے۔
تیاری کے منصوبے
وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے جمعرات کو قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ بھارتی سرحد پر صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔
انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ ان کی حکومت نے ایل او سی کے ساتھ واقع 13 حلقوں میں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے انتظامات کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ایمرجنسی رسپانس فنڈ قائم کیا ہے اور اس میں ایک ارب روپے منتقل کیے ہیں، انہوں نے کہا کہ خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ سرحدی علاقوں میں انتظامیہ اور رہائشیوں کو 2 ماہ کے لیے راشن ذخیرہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ ایل او سی سے ملحقہ نیلم، جہلم، پونچھ، حویلی، کوٹلی اور بھمبر کے حلقوں میں سڑکیں کھلی رکھنے کے لیے سرکاری اور نجی مشینری تعینات کی جا رہی ہے۔
علاوہ ازیں اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، ریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک دہشت گرد ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے، انہوں نے قوم پر زور دیا کہ وہ محتاط رہیں اور متنبہ کیا کہ ناپاک دشمن کسی بھی خوفناک حرکت کا سہارا لے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر بھارت کسی بھی قسم کی جارحیت کا ارتکاب کرتا ہے تو حکومت، عوام اور تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور رہنما اس کے جارحانہ عزائم کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ قابض بھارتی افواج نے جمعرات کو ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ کی تھی جس کا فوج کی جانب سے بھرپور اور بروقت جواب دیا گیا۔
بعد ازاں وزیراعظم نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر کثیر الجماعتی اجلاس کی میزبانی کی جس میں قانون ساز اسمبلی کے باہر کے رہنماؤں سمیت شرکا نے کسی بھی جارحیت کی صورت میں بھارت کو منہ توڑ سبق سکھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
پابندیاں
جمعرات کو بھی حکام نے سیاحوں کو وادی نیلم اور ایل او سی کے قریب دیگر حساس علاقوں میں داخل ہونے سے روک دیا۔
بہت سے سیاح جو تازہ پابندیوں سے لاعلم تھے انہیں ماربل چیک پوسٹ سے واپس بھیج دیا گیا، یہاں تک کہ آزاد جموں و کشمیر کے ان رہائشیوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا گیا جو ان علاقوں کے مقامی نہیں تھے۔
وادی لیپا میں حکام نے رہائشیوں کو ایل او سی کے قریب کے علاقوں سے گریز کرنے کا مشورہ دیا اور ان پر زور دیا کہ وہ اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔
دوسری جانب حکومت نے ہیٹ ویو کو جواز بناتے ہوئے تمام دینی مدارس کو 10 روز کے لیے بند رکھنے کا حکم دیا ہے، تاہم سرکاری ذرائع نے عندیہ دیا کہ یہ فیصلہ انٹیلی جنس رپورٹس پر مبنی تھا جس میں کہا گیا تھا کہ بھارت عسکریت پسندوں کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنانے کے بہانے ان مدارس کو نشانہ بناسکتا تھا۔
وزیر قانون میاں عبدالوحید نے کہا کہ ہم ایک ایسے چالاک، ظالم اور سازشی دشمن سے نمٹ رہے ہیں جس سے کسی بھی مذموم فعل کی توقع کی جاسکتی ہے۔
آزاد کشمیر کے ہوٹلز، گیسٹ ہاؤسز، ریسٹورنٹس اور میرج ہالز کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔
راجہ الیاس کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کوٹلی، میرپور، باغ، راولاکوٹ اور نیلم کے اراکین نے شرکت کی جن میں سے کچھ نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر بھارت نے حملہ کیا تو وہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کے ذریعے اپنے اداروں کو پاک فوج کے حوالے کردیں گے۔
فضائی حدود کی بندش
پاکستان نے آپریشنل وجوہات کی بنا پر مئی کے مہینے میں کراچی اور لاہور کی فضائی حدود کے کچھ حصوں کو مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، پابندیوں کا اطلاق اتوار کو نہیں ہوگا۔
پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین نوٹس ٹو ایئرمین (نوٹم) کے مطابق متاثرہ راستے 9 ہزار سے 25 ہزار فٹ کے درمیان واقع ہیں۔
حکام نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ ایف آئی آر کے اندر منتخب راہداریوں کو مکمل طور پر بند کرنے کے بجائے متاثر کرتا ہے، اور احتیاطی حفاظتی اقدامات کے طور پر نافذ کیا جارہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بندش سے کمرشل فلائٹ آپریشن میں کوئی خاص خلل نہیں پڑے گا، کیونکہ محدود اوقات کے دوران طیاروں کو متبادل راستوں کے ذریعے ری روٹ کیا جائے گا، لیکن ان اوقات کو مقامی پروازوں کے لیے پیک ٹائم سمجھا جاتا ہے۔
پی آئی اے کی اسلام آباد سے گلگت اسکردو جانے والی پروازیں جمعرات کو دوسرے روز بھی منسوخ رہیں جس کی وجہ گلگت بلتستان میں پہلے سے عائد پابندیاں عائد ہیں، جمعرات کی رات ڈیڑھ بجے سے رات10 بجے تک فضائی حدود دستیاب نہیں تھی۔
دوسری جانب پاکستان کے شمالی علاقوں میں بارش اور آندھی کے باعث پروازوں کا شیڈول متاثر ہوا ہے جبکہ اسلام آباد میں خراب موسم کے باعث 5 بین الاقوامی اور اندرون ملک پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں اور انہیں دوسرے شہروں کی جانب موڑ دیا گیا۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ علاقوں میں جمعرات کو ایل او سی بنانے کے کسی بھی کی جانب دیا گیا حکام نے کہ اگر کے لیے
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب