سرینگر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگ وقار کے ساتھ امن چاہتے ہیں، لیکن جب بھی پاکستان کی بات آئے گی تو وہ خارجہ پالیسی کے معاملات میں ضرور "مداخلت" کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے مودی کی بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ جنگ کی گیدڑ بھبکیوں کی بجائے تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرے۔ ذرائع کے مطابق محبوبہ مفتی نے سرینگر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگ وقار کے ساتھ امن چاہتے ہیں، لیکن جب بھی پاکستان کی بات آئے گی تو وہ خارجہ پالیسی کے معاملات میں ضرور”مداخلت” کریں گے۔ انہوں نے مودی حکومت پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کو "اپنے دل سے" دیکھے اور سنے کیونکہ جب تک ایسا نہیں ہو گا بھارت اور پاکستان کے درمیان مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ میں بھارتی حکومت کو بتانا چاہتی ہوں کہ جموں و کشمیر کے لوگ آپ کے دشمن نہیں ہیں، ہم وقار کے ساتھ امن چاہتے ہیں، ہم جنگ سے نہیں بلکہ دوستی کے ذریعے امن چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے پہلگام میں آپریشن سندور کے دوران جو کچھ ہوا اور کشمیر کی صورتحال کے بارے میں بات کرنے کے لیے دنیا بھر میں وفود بھیجے۔

انہوں نے کہا کہ حل طلب تنازعہ کشمیر سے کشمیری عوام سب سے بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور اگر ایک کشمیری پاکستان سے مذاکرات کا مطالبہ نہیں کرے گا تو اور کون کرے گا؟ محبوبہ مفتی نے مودی حکومت سے کہا کہ وہ مفاہمت کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کشمیری پاکستان کے ساتھ امن اور بات چیت کی بات کرتے ہیں تو ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں مداخلت نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے بغیر بھارت کی خارجہ پالیسی کیا ہے، تنازعہ کشمیر کا حل تمام بھارتی حکومتوں کیلئے ایک چیلنج رہا ہے۔انہوں نے مودی حکومت پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ "ہتھیاروں کی دوڑ" سے باز رہے اور ملک کے اہم مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کرے۔ پی ڈی پی کی سربراہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو مزید بھارتی فوجیوں کی تعیناتی، کالے قوانین کے نفاذ یا کشمیری نوجوانوں کی گرفتاری کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں چھ نوجوانوں کو دوران حراست شہید کیا گیا، اگر کشمیری مذاکرات کا مطالبہ نہیں کریں گے تو کون کرے گا؟۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پاکستان کے ساتھ جموں و کشمیر کے انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی نے امن چاہتے ہیں خارجہ پالیسی کے ساتھ امن مودی حکومت

پڑھیں:

بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا

بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔

میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔

یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔

        View this post on Instagram                      

تاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا