ان کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعے کے بعد، مقبوضہ کشمیر میں 13گھروں کو مشکوک افراد کی زیر ملکیت ہونے کے شبہ میں بغیر کسی قانونی کارروائی کے دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ نیشنل کانفرنس کے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن آغا روح اللہ مہدی نے کسی بھی پرتشدد واقعے کے رونما ہونے کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو اجتماعی سزا دینے پر مودی حکومت، بھارتی میڈیا اور تحقیقاتی اداروں پر کڑی تنقید کی ہے۔ ذرائع کے مطابق روح اللہ نے لوک سبھا سے خطاب کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا آج کسی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ جنگ بعد لیکن پہلے ہمیشہ کشمیریوں سے لڑی جاتی ہے؟ انہوں نے کشمیر میں مکانات کو مسمار کرنے کی حالیہ مہم کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 13 کشمیریوں کے گھروں کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے بلاجواز گرا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرتشدد کارروائیوں کے ردعمل کا خمیازہ اکثر بے گناہ کشمیریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔روح اللہ مہدی نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد، مقبوضہ کشمیر میں 13گھروں کو مشکوک افراد کی زیر ملکیت ہونے کے شبہ میں بغیر کسی قانونی کارروائی کے دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر جاری جبری گرفتاریوں اور اختیارات کے غلط استعمال پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ پلوامہ اور پہلگام جیسے واقعات کے بعد 2,000 سے زائد کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا اور انہیں صرف کشمیری ہونے کی سزا دی گئی۔ آغا روح اللہ نے کہا کہ کشمیری بدستور سخت پابندیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر پانچ کلومیٹر بعد ہمیں روکا جاتا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو جیلوں میں ڈالا جاتا ہے اور انہیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، بھارت بھر میں کشمیری طلبا اور تاجروں کو تشدد، بے دخلی اورخوف و دہشت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے کہا کہ روح اللہ انہوں نے جاتا ہے کے بعد

پڑھیں:

شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان

ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ