آغا روح اللہ کی کشمیریوں کو اجتماعی سزا دینے پر مودی حکومت اور بھارتی میڈیا پر کڑی تنقید
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
ان کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعے کے بعد، مقبوضہ کشمیر میں 13گھروں کو مشکوک افراد کی زیر ملکیت ہونے کے شبہ میں بغیر کسی قانونی کارروائی کے دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ نیشنل کانفرنس کے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن آغا روح اللہ مہدی نے کسی بھی پرتشدد واقعے کے رونما ہونے کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو اجتماعی سزا دینے پر مودی حکومت، بھارتی میڈیا اور تحقیقاتی اداروں پر کڑی تنقید کی ہے۔ ذرائع کے مطابق روح اللہ نے لوک سبھا سے خطاب کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا آج کسی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ جنگ بعد لیکن پہلے ہمیشہ کشمیریوں سے لڑی جاتی ہے؟ انہوں نے کشمیر میں مکانات کو مسمار کرنے کی حالیہ مہم کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 13 کشمیریوں کے گھروں کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے بلاجواز گرا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرتشدد کارروائیوں کے ردعمل کا خمیازہ اکثر بے گناہ کشمیریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔روح اللہ مہدی نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد، مقبوضہ کشمیر میں 13گھروں کو مشکوک افراد کی زیر ملکیت ہونے کے شبہ میں بغیر کسی قانونی کارروائی کے دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر جاری جبری گرفتاریوں اور اختیارات کے غلط استعمال پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ پلوامہ اور پہلگام جیسے واقعات کے بعد 2,000 سے زائد کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا اور انہیں صرف کشمیری ہونے کی سزا دی گئی۔ آغا روح اللہ نے کہا کہ کشمیری بدستور سخت پابندیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر پانچ کلومیٹر بعد ہمیں روکا جاتا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو جیلوں میں ڈالا جاتا ہے اور انہیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، بھارت بھر میں کشمیری طلبا اور تاجروں کو تشدد، بے دخلی اورخوف و دہشت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ روح اللہ انہوں نے جاتا ہے کے بعد
پڑھیں:
معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں بھارت میں ہونے والے احتجاج میں شامل ایک بھارتی طالبہ اپنی ہی حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے سخت تنقید کرتی نظر آ رہی ہے۔ ویڈیو میں طالبہ کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بھارتی رافیل طیارے گرائے اور بھارتی فوجیوں کو بھی مارا ہے تاہم اس وقت بھارتی حکومت نے ان تمام دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔
Array koi baat nahi it's ok pic.twitter.com/ZwimtIcx4a
— iffi (@iffiViews) July 22, 2026
طالبہ ویڈیو میں کہتی ہے کہ اب اگر ایک سال بعد حکومت خود یہ تسلیم کر رہی ہے کہ اس دوران چھ بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے تو اس سے عالمی سطح پر یہی تاثر جائے گا کہ پاکستان کے دعوے درست تھے۔ اس صورتحال نے بھارتی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے آخر میں وہ یہ بھی کہتی ہے کہ اس کے بعد پاکستان کے سامنے بھی ہماری عزت نہیں رہی۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کی جا رہی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دیگر دعوے بھی درست تھے جبکہ کچھ صارفین نے بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حقائق چھپانے اور متضاد بیانات دینے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین آرمی بھارتی طیارے پاک آرمی پاک فوج پاکستانی فوج رافیل ویڈیو وائرل