5 اگست کے اقدامات کشمیریوں کے خلاف اعلان جنگ تھا
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں پوسٹر چسپاں کئے گئے ہیں جن میں 5 اگست 2019ء کو بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں لوگوں نے 5 اگست 2019ء کو جب بھارت نے علاقے کی خصوصی حیثیت منسوخ کر دی، کشمیر کی حالیہ تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے اسے کشمیریوں کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سرینگر سمیت وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں پوسٹر چسپاں کئے گئے ہیں جن میں 5 اگست 2019ء کو بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ پوسٹروں میں دفعہ 370 اور 35A کی منسوخی کو غیر آئینی قرار دیا گیا جس کا مقصد کشمیریوں سے ان کے حقوق، وسائل اور شناخت چھیننا ہے۔ پوسٹروں میں اسے آمرانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ اقدام کشمیری عوام یا ان کے منتخب نمائندوں کی رضامندی کے بغیر اٹھایا گیا۔ پوسٹرز میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے کشمیری عوام کے خلاف مکمل جنگ چھیڑ رکھی ہے لیکن کشمیری مزاحمت کے لیے پرعزم ہیں اور وہ کبھی بھی اپنے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
پوسٹروں میں کہا گیا ہے کہ خصوصی حیثیت کی منسوخی سے مقامی زمینوں، ملازمتوں اور وسائل پر قبضے کے لیے بیرونی لوگوں کے لیے دروازے کھول دیے گئے تاکہ مقامی آبادی کو معاشی اور ثقافتی پسماندگی کی طرف دھکیلا جائے۔ پوسٹروں میں کہا گیا کہ دفعہ 370 اور 35A کی منسوخی غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ کشمیریوں نے پہلے دن سے ہی اس اقدام کو اپنے وقار اور آزادی پر حملہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ کشمیری عوام دفعہ370 اور 35A کی بحالی کے لیے متحدہ جدوجہد کے لئے پرعزم ہیں۔پوسٹروں میں کہا گیا ہے کہ کشمیری اپنے حق خودارادیت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔پوسٹروں میں بھارت کے نو آبادیاتی منصوبوں کے خلاف اتحاد اور مزاحمت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ کشمیریوں کے جائز حقوق کی بحالی تک انصاف اور آزادی کی جدوجہد جاری رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہا گیا ہے کہ پوسٹروں میں میں کہا گیا دیتے ہوئے بھارت کے کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔