WE News:
2026-06-03@04:23:11 GMT

اداکارہ حمیرا اصغر: خاموش فلیٹ کی آخری کہانی

اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT

جب دنیا میں کوئی شخص مر جائے تو لوگ اسے روتے ہیں، مگر جو تنہائی میں مرے، اسے صرف خاموشی دفناتی ہے۔ تنہائی کی موت سب سے سست، سب سے سفاک موت ہوتی ہے ، کوئی مرنے والے کو مرا ہوا نہیں سمجھتا، کوئی ماتم بھی نہیں کرتا۔
ایسا ہی اداکارہ حمیرا اصغر کے ساتھ ہوا۔

پہلا منظر: روشنیوں سے سجی دنیا کی پرچھائیاں

وہ روشنیوں کی دنیا تھی۔ کیمروں کی چمک، ریمپ پر چلتے ماڈل، تصویروں میں مسکراتے چہرے – ان میں ایک چہرہ حمیرا اصغر کا بھی تھا۔ لاہور کے ایک متوسط مگر باوقار گھرانے سے تعلق رکھنے والی یہ لڑکی خوابوں کا تعاقب کرتے ہوئے کراچی پہنچی تھی۔ ماڈلنگ اور اداکاری کا جنون اسے وہاں لے گیا، جہاں رنگ تو تھے، لیکن اکثر تعلقات صرف وقتی اور مفاد پر مبنی ہوتے ہیں۔

لاہور کے علاقے کیو بلاک، ماڈل ٹاؤن کی رہنے والی حمیرا نے سنہ 2018 میں کراچی کے ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کے ایک اپارٹمنٹ میں سکونت اختیار کی۔ اتحاد کمرشل کی ایک خاموش سی گلی میں واقع سکس سی عمارت کے تیسری منزل پر واقع اس اپارٹمنٹ میں وہ اکیلی رہتی تھیں۔ بظاہر یہ محض ایک رہائش گاہ تھی، لیکن وقت کے ساتھ یہ ایک تنہائی کا قیدخانہ بن چکا تھا۔

دوسرا منظر: خاموشی کا شور

وقت گزرتا رہا، کیمرے کے فلیش کم ہونے لگے، پروجیکٹس چھننے لگے اور پھر سوشل میڈیا پر بھی حمیرا کی موجودگی مدھم ہونے لگی۔ ستمبر 2024 میں ان کی آخری انسٹاگرام پوسٹ سامنے آئی، جس میں وہ ایک فیشن شوٹ میں مصروف دکھائی دے رہی تھیں۔ اس کے بعد، یکایک خاموشی چھا گئی۔

2 اکتوبر کو سٹائلسٹ دانش مقصود سے ان کا آخری رابطہ ہوا۔ ’آپ کی ٹیم کے ساتھ کام کر کے لطف آیا‘ – یہ حمیرا کا آخری پیغام تھا۔ 7 اکتوبر کو ان کا واٹس ایپ اکاؤنٹ آخری بار آن لائن نظر آیا۔ اس کے بعد حمیرا کی زندگی جیسے ایک غار میں دفن ہو گئی ہو۔

فلیٹ جہاں اداکارہ حمیرا اصغر کو تنہائی نے مار ڈالا۔ تصویر: بی بی سی

تیسرا منظر: بند دروازہ، خاموش دیواریں

8 جولائی 2025 کو کراچی پولیس ایک عدالتی حکم پر اپارٹمنٹ نمبر 3 پر پہنچی۔ دروازہ بند تھا، اندر سے۔ بار بار کی دستک کے بعد جب دروازہ نہ کھلا تو پولیس نے بیلف کے ساتھ زبردستی دروازہ توڑا۔ اندر داخل ہونے پر ایک المناک منظر نے پولیس اہلکاروں کا استقبال کیا۔ زمین پر ایک لاش تھی – کئی ماہ پرانی، مکمل طور پر گل چکی، پہچاننا مشکل۔

وہ لاش تھی حمیرا اصغر کی۔ وہی لڑکی جو روشنیوں کی دنیا کا چمکتا ستارہ تھی۔

چوتھا منظر: لاوارث کی آوازیں

لاش کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا کہ موت اور پوسٹ مارٹم کے درمیان 8 سے 10 ماہ گزر چکے تھے۔ جسم مکمل طور پر ڈی کمپوز ہو چکا تھا۔ تشدد کا کوئی نشان نہیں ملا، لیکن موت کی وجہ ابھی بھی لیبارٹری تجزیے کی منتظر تھی۔

جب خبر میڈیا میں آئی، سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہو گیا۔ سوال اٹھے: کیا وہ لاوارث تھیں؟ ان کے گھر والے کہاں تھے؟ کیا وہ ان سے ناراض تھے؟ کیا وہ سب کچھ چھوڑ کر تنہائی میں ڈوب گئی تھیں؟

پانچواں منظر: رشتوں کا جواب

ابتدا میں یہ افواہیں پھیلیں کہ خاندان نے لاش وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ لیکن جلد ہی یہ تاثر غلط ثابت ہوا۔ ان کے بھائی نوید اصغر اور بہنوئی کراچی پہنچے، قانونی تقاضے پورے کیے، اور لاش وصول کی۔ نوید نے میڈیا سے گفتگو میں کہا:

’یہ کہنا کہ والدین نے لاش وصول کرنے سے انکار کیا، سراسر غلط ہے۔ حمیرا ایک خود مختار لڑکی تھی، ہم اس سے باقاعدہ رابطہ رکھتے تھے۔ کچھ مہینے سے رابطہ نہیں ہوا تھا، لیکن ہم مسلسل تلاش میں تھے۔‘

ان کے چچا محمد علی نے بھی کہا، ’اس کا خاندان اس سے ناراض نہیں تھا، وہ خود کم رابطہ کرتی تھی۔ کبھی 6، کبھی 8مہینے بعد لاہور آتی تھی۔‘

چھٹا منظر: ایک شہر، ایک لاش، اور کئی سوالات

ڈیفینس کی وہ عمارت جہاں حمیرا رہتی تھی، وہ اب بھی خاموش کھڑی ہے۔ اس کے اپارٹمنٹ پر پولیس کی زرد پٹی ہے، جس پر لکھا ہے:

’خبردار، اس سے آگے جانا منع ہے۔‘

پڑوسیوں کو کچھ خبر نہیں تھی۔ نیچے موجود ویٹرنری کلینک کے عملے نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ کئی ماہ تک ایک لاش ایک بند اپارٹمنٹ میں پڑی رہی، لیکن کسی نے محسوس نہ کیا – یہ شاید ایک بڑے شہر کی بےحسی کا ثبوت تھا، یا ایک تنہا زندگی کی خاموش موت کا۔

فلیٹ کا دروازہ جہاں اداکارہ حمیرا اصغر 2018سے اب تک مقیم تھیں، کو سیل کردیا گیا۔ نتصویر: بی بی سی

ساتواں منظر: آخری سفر

بالآخر، لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کی فضائیں خاموش ہو گئیں، جب کیو بلاک کی مسجد میں حمیرا اصغر کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ان کے اہلِ خانہ، چند احباب، میڈیا کے نمائندے اور وہ لوگ بھی موجود تھے جو صرف اس درد کو محسوس کرنے آئے تھے جو کسی کے اپنے سے کٹ جانے کا ہوتا ہے۔

قبرستان میں مٹی کے نیچے وہ خواب دفن کر دیے گئے، جو کبھی کیمرے کی چمک میں جگمگاتے تھے۔

اختتام: کیا ہم نے اسے کھو دیا؟

حمیرا کی موت صرف ایک فرد کی موت نہیں تھی، یہ ایک معاشرتی المیہ تھا۔ یہ کہانی اس عورت کی تھی جس نے خود مختاری کا انتخاب کیا، لیکن تنہائی پائی۔ جس نے شناخت بنائی، لیکن اختتام میں کوئی نہ پہچان سکا۔

یہ ایک سوال بھی ہے، ہم سب سے:
کیا ہم زندہ لوگوں کی خاموشیوں کو سننے کا ہنر کھو چکے ہیں؟
کیا سوشل میڈیا پر موجودگی ہی آج کے دور میں تعلق کا ثبوت ہے؟
یا کیا تنہائی اب موت کا دوسرا نام بنتی جا رہی ہے؟

یہ کہانی ختم ہو گئی، لیکن اس سے جڑے سوال ابھی باقی ہیں۔

جیسا کہ اب تک کی معلومات ہیں کہ حمیرا اصغر کی ممکنہ طور پر موت اکتوبر سن دو ہزار چوبیس میں ہوئی، تب سے اب تک اس کی لاش فلیٹ میں پڑی رہی، پہلے اس میں آہستہ آہستہ بدبو پیدا ہونا شروع ہوئی، پھر بدبو اپنے انتہائی درجے کو پہنچ کر آہستہ آہستہ دم توڑ گئی اور لاش نے گلنا سڑنا شروع کردیا اور اپنی انتہا کو پہنچ گئی، لیکن اس دوران والدین، بہن بھائیوں، دوست احباب اور دیگر جاننے والوں میں سے کسی کو بھی فکر نہ ہوئی کہ حمیرا کیوں خاموش ہے؟ کیا کوئی اتنا بھی لاتعلق رہ سکتا ہے؟

یہ ایک گہرا اسرار ہے جس کا بھید شاید کسی نہ کسی دن کھل جائے۔ لیکن یہ بھید تو کھل چکا ہے کہ کوئی لاکھ اپنوں کے بغیر جینا چاہے، کائناتی حقیقت تو یہی ہے کہ تنہا جیا نہیں جاسکتا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عبیداللہ عابد

اداکارہ حمیرا اصغر عبیداللہ عابد.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اداکارہ حمیرا اصغر عبیداللہ عابد اداکارہ حمیرا اصغر حمیرا کی کے ساتھ یہ ایک ا ہستہ

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود