قانون سازوں کی تنخواہیں اور ٹیکسز بڑھنے ، سہولیات کی کمی پر سینئر صحافی رؤوف کلاسرا برس پڑے
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
اسلام آباد (ویب ڈیسک) اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ ہونے لیکن عوام کے لیے نوکریاں نہ دینے اور پیسے کی بچت کے دعووں پر سینئر صحافی و تجزیہ نگاررؤوف کلاسرا برس پڑے اور کہا کہ اراکین اسمبلی کے ترقیاتی فنڈز کے لیے بھی پیسہ ہے لیکن پنجاب میں سکولوں اور ہسپتالوں کو بھی پرائیویٹ لوگوں کے حوالے کردیاگیا۔
ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رؤوف کلاسرا کاکہناتھاکہ "آپ کہتے ہیں کہ پیسے بچا رہے ہیں، نوکریاں دینا ہمارا کام نہیں تو حکومت خود کیا کررہی ہے، آپ نے چوبیس کلومیٹر کا شہر اسلام آبادکے ڈپٹی کمشنر آفس کے کام ، کلیریکل یا اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے کاموں کے لیے ایک وزیر رکھا ہوا ہے، پورے محکمے رکھے ہوئے ہیں،پچاس ساٹھ وزیر ہیں، وزیر، مشیر اور اسٹنٹ شامل کرتے ہوئے خیال نہیں آتا کہ ہمارا کام نوکری دینا نہیں۔
ان کاکہناتھاکہ پھر کہہ رہا ہوں کہ اسلام آباد کو آٹھ سے دس سے زیادہ وزیروں کی ضرورت نہیں، آپ نے رکھ لیے ہیں تو ان کی تنخواہیں دیکھ لیں، ابھی 600فیصد تنخواہیں بڑھادی ہیں، ایم این ایز اور ایم پی ایز ہمیں تو بتارہے ہیں کہ آپ کے لیے پیسے نہیں، تنخواہیں نہیں بلکہ پنشن بھی نہیں ہے لیکن سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ نے اپنی تنخواہیں بڑھا لیں، ان لوگوں کے لیے اتنا پیسہ کہاں سےآگیا؟یہ لوگ تو ترقیاتی فنڈ بھی لے رہے ہیں، ساڑھے پانچ سو بلین روپے کے ترقیاتی فنڈزاراکین اسمبلی کو دیں گے جس میں شاہد خاقان عباسی کے بقول آپ 30فیصد کمیشن لیتے ہیں، سارے لوگ نہیں لیتے، کچھ اچھے بھی ہوں گے ، اپنے اللے تللوں پر آپ کو کوئی مسئلہ نہیں، پنجاب میں سکولوں اور ہسپتالوں کو آؤٹ سورس کردیاگیا، نہ آپ تعلیم دے رہے ہیں، نہ نوکریاں دے رہے ہیں، پیسے لے رہے ہیں، ٹیکس لے رہے ہیں، گیس کی قیمت ابھی 50فیصد بڑھادی ہے، موٹروے کا ٹول بڑھ گیا، بینک ودڈرال پر ٹیکس بڑھ گیا۔
بھارتی خفیہ ایجنسی کے ٹویٹر اکاونٹس نے لورالائی واقعہ سے قبل ہی دہشتگردی کی خبری دی تھی : وسیم عباسی کا انکشاف
شہباز شریف حکومت نے کہا ہے ہمارا کام نوجوانوں کو نوکریاں دینا نہیں کیونکہ پیسے نہیں ہیں۔ ٹھیک ہوگیا۔ لیکن پچاس ساٹھ وزیر، مشیر رکھنے ہوں تو پیسہ ہے، سپیکر کی تنخواہ اکیس لاکھ کرنی ہو، ایم این ایز نے تنخواہ چھ سات لاکھ کرنی لی، پنجاب میں سکول اور ہسپتال پرائیوٹ لوگوں کے حوالے کر… pic.
صحافی کاکہناتھاکہ مطلب ٹیکسز روزانہ بڑھا رہے ہیں لیکن سہولیات کم ہوتی جارہی ہیں، ہم لوگ اگر احتجاج کریں تو گلا پکڑ لیتے ہیں کہ آپ جمہوریت کے دشمن ہیں، نہ نوکری خود دے رہے ہیں اور نہ ہی نوکریاں دیے جانے کا ماحول بنا رہے ہیں، اپنے لیے تمام سہولیات ہیں، پنجاب میں مریم نواز صاحبہ نے آؤٹ سورس کرکے لوگوں کو دے دیے ہیں تو پھر ٹیکسز کس چیز کے لے رہے ہیں؟
اصلی ایس پی نے بھکر میں نقلی ایس پی کو گرفتار کرا دیا، پولیس یونیفارم اور وائرلیس سیٹ بھی برآمد
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: لے رہے ہیں کے لیے
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔