اسلام آباد میں پہلی بار پُلٹزر انعام یافتہ اسٹیج ڈرامے کی اردو پیشکش ’وسوسہ: ایک کہانی‘ اسٹیج پر پیش
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 جولائی 2025ء ) چاند نگر کلچرل سینٹر کی نئی پیشکش “وسوسہ: ایک کہانی” کو شاہ عبداللطیف بھٹائی آڈیٹوریم، اسلام آباد میں اسٹیج پر پیش کیا گیا، جسے ناظرین کی بھرپور داد اور توجہ حاصل ہوئی۔ یہ ڈرامہ معروف امریکی مصنف جان پیٹرک شینلی کے پُلٹزر انعام یافتہ ڈرامے Doubt: A Parable کا باقاعدہ اجازت کے ساتھ کیا گیا اردو ترجمہ ہے۔
ڈرامے کا اردو ترجمہ اور مقامی سیاق و سباق سے ہم آہنگی عادل یوسف اور عمران افتخار نے کی ہے، جبکہ ہدایتکاری کے فرائض بھی عمران افتخار نے انجام دیے۔ “وسوسہ” پاکستان میں پہلی مرتبہ ایک ایسے بین الاقوامی شاہکار کی پیشکش ہے جسے مصنف کی باقاعدہ اجازت کے ساتھ اردو میں ڈھالا گیا ہے۔عمران افتخار نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف میرے لیے بلکہ پورے پاکستانی تھیٹر کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔(جاری ہے)
پہلی بار ایک پُلٹزر انعام یافتہ ڈرامہ مقامی زبان میں، مقامی تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ پروڈکشن پاکستان میں بین الاقوامی تھیٹر کے لیے نئے دروازے کھولے گی۔ڈرامے کی کہانی ایک ایسے اسکول پر مبنی ہے جہاں طاقت، روایت اور اخلاقیات کے درمیان کشمکش دکھائی گئی ہے۔وسوسہ محض ایک ڈرامہ نہیں بلکہ ایک فکری تجربہ ہے جو ناظرین کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔چاند نگر کلچرل سینٹر کی یہ پروڈکشن آرٹ، سوال، خاموشی اور ضمیر کے مابین جھولتی انسانی نفسیات کی ایک جاندار اور سنجیدہ تصویر پیش کرتی ہے۔ یہ سینٹر اسلام آباد اور راولپنڈی میں تھیٹر اور آرٹس کے ذریعے سماجی، فکری اور جرات مندانہ بیانیے پیش کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ یاد رہے کہ اسی کہانی پر مبنی ہالی ووڈ فلم Doubt 2008 میں ریلیز ہوئی تھی، جس میں میریل اسٹریپ نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس