نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک کے مختلف حصوں میں 28 جولائی سے 31 جولائی تک شدید بارشوں، طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ اورشہری سیلاب کے خدشے کے پیش نظر الرٹ جاری کردیا ہے۔

این ڈی ایم اے کی پیشگوئی کے مطابق اس دوران پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کا امکان ہے، جس کے باعث پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی پیدا ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: ملک بھر میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

محکمہ موسمیات اوراین ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب کے شہروں لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور نارووال میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ راجن پور، ڈیرہ غازی خان اور رحیم یار خان کے برساتی نالوں میں طغیانی کا خطرہ موجود ہے۔

خیبرپختونخوا میں پشاور، مردان، ایبٹ آباد، چترال، بونی، ریشون اور مظفرآباد میں شہری سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ خاص طور پر دریائے پنجکوڑہ، نالہ بارہ، نالہ کلپانی اور دریائے کابل میں طغیانی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، گلیشئر پگھلنے کے باعث دریائے چترال میں پانی کی سطح بڑھنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں سیلاب کا الرٹ، این ڈی ایم اے کی تمام اداروں کو پیشگی اقدامات کی ہدایت

گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے علاقوں، خصوصاً گلگت، اسکردو، نیلم اور مظفرآباد میں بھی لینڈ سلائیڈنگ اور مقامی ندی نالوں میں سیلابی کیفیت پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔

این ڈی ایم اے نے تمام وفاقی و صوبائی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تمام تر انتظامات مکمل رکھیں۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری مدد کے لیے ’پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ‘ ایپ سے رجوع کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

این ڈی ایم اے خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان شہری سیلاب طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ محکمہ موسمیات نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: این ڈی ایم اے خیبرپختونخوا گلگت بلتستان شہری سیلاب طغیانی لینڈ سلائیڈنگ محکمہ موسمیات نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی لینڈ سلائیڈنگ اور گلگت بلتستان ڈی ایم اے کی گئی ہے

پڑھیں:

غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ

غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ  کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔

اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔

آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

غذائی قلت غزہ فلسطین

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ