طلاق یافتہ کہلائے جانے کے خوف سے 16 سال ناپسندیدہ شادی میں گزار دیئے؛ نازلی نصر
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
ڈراما دھواں سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ نازلی نصر نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں اپنی نجی زندگی کی مشکلات بالخصوص پہلی شادی اور 16 سال بعد طلاق سے متعلق کھل کر گفتگو کی۔
سینیئر اداکارہ نازلی نصر نے بتایا کہ ان کی زندگی میں چند ہی لوگ اہم ہیں جن میں ان کے بچے اور موجودہ شوہر شامل ہیں لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ اپنی زندگی کے حوالے سے شدید الجھن کا شکار تھیں۔
نازلی نصر نے مزید بتایا کہ انھوں نے پہلی شادی کے بعد شوہر کی خواہش پر شوبز کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ وہ رشتہ مرضی کے خلاف تھا جس کو نبھانے کی 16 سال تک کوشش کی۔
انھوں نے مزید کہا کہ شادی کے فوراً بعد ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ رشتہ کامیاب نہیں ہوگا لیکن یہی سوچتی رہیں کہ اب کیا کیا جائے یا کیسے آگے بڑھا جائے۔ اسی کشمکش میں زندگی کا ایک قیمتی دور گزر گیا۔
اداکارہ نے کہا کہ اب وہ اپنی بیٹی اور دیگر لڑکیوں کو یہی مشورہ دیتی ہیں کہ اگر آپ اپنے شریکِ حیات کے ساتھ خوش نہیں ہیں تو آگے بڑھنے کا فیصلہ کریں کیونکہ کسی ناپسندیدہ رشتے میں رہ کر صرف وقت ضائع ہوتا ہے۔
نازلی نصر نے کہا کہ شوبز سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے طلاق اور دوسری شادی کو تسلیم کرنا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ لوگ باتیں بناتے ہیں اور یہ بچوں کے لیے بھی تکلیف دہ ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ نازلی نصر کی پہلی شادی سابق اداکار اور ریڈیو میزبان حسن سومرو سے ہوئی تھی جن سے ان کے دو بچے بھی ہیں، جو اب امریکا میں مقیم ہیں۔ اداکارہ نے دوسری شادی 2013 میں کی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔