بھارت میں 2024 میں کتے کے کاٹنے کے37 لاکھ سے زائد واقعات
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 23 جولائی 2025ء) بھارت دنیا میں آوارہ کتوں کے حملوں کے سب سے زیادہ واقعات والا ملک ہے۔ بھارتی شہروں میں آوارہ کتوں کے حملے بچوں اور بزرگوں کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ دنیا میں ریبیز سے ہونے والی کل اموات کا 36 فیصد بھارت میں ہوتی ہیں۔
بھارت میں آوارہ کتوں اور بلیوں کی تعداد بھی دنیا میں سب سے زیادہ ہے، اور ریبیز سے اموات کی شرح بھی بلند ترین ہے، جب کہ بیشتر ریبیز اموات کی رپورٹ درج نہیں کرائی جاتیں۔
منگل کو پارلیمان کے ایوان زیریں، لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے وزیر مملکت ایس پی سنگھ بگھیل نے بتایا کہ 2024 میں کتے کے کاٹنے کے کل سینتیس لاکھ، سترہ ہزار 336 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ ریبیز سے 54 مشتبہ اموات ہوئیں۔
(جاری ہے)
تمل ناڈو، مہاراشٹر اور مغربی بنگال میں کتے کے کاٹنے کے کیسز سب سے زیادہ رپورٹ ہوئے۔
اتر پردیش، اوڈیشہ اور مہاراشٹر میں آوارہ کتوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔بھارتی وزیر نے بتایا کہ یہ ڈیٹا نیشنل ریبیز کنٹرول پروگرام کے تحت نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (این سی ڈی سی) کے ذریعے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے جمع کیا جاتا ہے۔
بگھیل نے کہا کہ میونسپلٹیاں آوارہ کتوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کی ذمہ دار ہیں اور وہ آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے اینیمل برتھ کنٹرول (اے بی سی) پروگرام نافذ کر رہی ہیں۔
خیال رہے بھارت میں جانوروں کی بہبود کے ضوابط کے مطابق، آوارہ کتوں کو مارا نہیں جا سکتا، صرف نس بندی کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نومبر 2024 میں ان کی وزارت نے ریاستوں کو ایک ایڈوائزری جاری کی، جس میں متعلقہ مقامی اداروں کو اے بی سی رولز کے پروگرام اور سرگرمیوں پر عمل درآمد کرنے کو کہا گیا، تاکہ بچوں، خاص طور پر نومولودوں کو آوارہ کتوں کے حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
جانوروں کے کاٹنے کے ہر چار میں سے تین واقعات کتوں کےمعروف طبی جریدہ 'دی لانسیٹ‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، ہر چار میں سے تین جانوروں کے کاٹنے کے واقعات کتوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کی زیر قیادت مارچ 2022 سے اگست 2023 کے دوران ملک گیر سطح پر 15 ریاستوں کے 60 اضلاع میں ایک مطالعہ کیا گیا۔
تحقیق میں 78,800 سے زائد گھروں اور تقریباﹰ ساڑھے تین لاکھ افراد سے جانوروں کے کاٹنے، ریبیز ویکسینیشن اور اس سے ہونے والی اموات کے بارے میں انٹرویو کیا گیا۔مطالعہ میں شامل محققین نے پایا کہ جانوروں کے کاٹنے کے واقعات میں سے 76.
یہ بھی معلوم ہوا کہ ان افراد میں سے پانچواں حصہ اینٹی ریبیز ویکسین نہیں لے سکا، جبکہ دو تہائی کو کم از کم تین خوراکیں دی گئیں۔
ٹیم نے بتایا کہ تقریباً نصف نے ویکسینیشن کا مکمل کورس مکمل نہیں کیا۔ آوارہ کتوں کے مسئلے پر عدالت کا فیصلہسن 2023 میں پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں کہا تھا کہ آوارہ جانوروں کے حملوں کے متاثرین کو معاوضہ ادا کرنا ''بنیادی طورپر ریاست کی ذمہ داری‘‘ ہو گی۔
یہ فیصلہ اس وقت آیا جب معروف صنعت کار اور واگھ بکری گروپ کے ڈائریکٹر 49 سالہ پراگ ڈیسائی کی مبینہ طور پر آوارہ کتوں کا پیچھا کرنے کے بعد گرجانے سے برین ہیمرج کی وجہ سے موت ہو گئی تھی۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ کتے کے کاٹنے کے معاملے میں ہر ایک دانت کے نشان کے بدلے میں کم از کم دس ہزار روپے اور فی 0.2 سینٹی میٹرکے زخم یا گوشت باہر آجانے پر کم از کم بیس ہزار روپے کے حساب سے معاوضہ ادا کیا جائے۔
عدالت نے کتوں کے علاوہ گائے، بیل، گدھے، نیل گائے، بھینس جیسے جانور اور جنگلی اور پالتوکے علاوہ آوارہ جانوروں کو بھی اس فہرست میں شامل کیا ہے۔
کتوں کے کاٹنے کے واقعات پر بڑھتی ہوئی عوامی ناراضگی کی وجہ سے جانوروں پر ظلم کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔
سن 2023 میں جی ٹوئنٹی سربراہی اجلاس کے دوران دہلی میں ہزاروں آوارہ کتوں کوزبردستی پکڑ کر بند کردیا گیا تھا، جس پر جانوروں کے حقوق کے علمبرداروں نے کافی ناراضگی ظاہر کی تھی۔
ادارت: صلاح الدین زین
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جانوروں کے کاٹنے کتے کے کاٹنے کے میں آوارہ کتوں آوارہ کتوں کے سب سے زیادہ کے واقعات بھارت میں
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو بھی فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔
آج کاروبار کے پہلے نصف حصے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی کا شکار ہوگیا۔
دوپہر 12 بج کر 5 منٹ پرانڈیکس 170,475.30 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 1,264.14 پوائنٹس یعنی 0.74 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی کشیدگی سے سرمایہ کار محتاط، پاکستان اسٹاک مارکیٹ مندی سے دوچار
مارکیٹ میں فروخت کا رجحان آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں میں نمایاں رہا۔
حب پاور، اٹک ریفائنری لمیٹڈ، ماری انرجیز، او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور نیشنل بینک جیسے زیادہ وزن رکھنے والے شیئرز مندی کے ساتھ کاروبار کرتے رہے۔
Market is down at midday ????
⏳ KSE 100 is negative by -1253.65 points (-0.73%) at midday trading. Index is at 170,485.8 and volume so far is 113.98 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/DtJJR8AXhS
— Investify Pakistan (@investifypk) July 24, 2026
جمعرات کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید دباؤ کا شکار رہی تھی، جب کے ایس ای 100 انڈیکس 2,690.48 پوائنٹس یعنی 1.54 فیصد کمی کے بعد 171,739.45 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی نے سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھا دیے ہیں، جس کے باعث مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر فروخت دیکھنے میں آئی۔
عالمی منڈیوں میں بھی مندیعالمی سطح پر بھی ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں جمعہ کو نمایاں کمی دیکھی گئی، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 100.85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
گزشتہ روز اس میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور قیمت مختصر طور پر 102 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔
مزید پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟
تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایران سے منسلک حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث سامنے آیا، جس سے عالمی تیل کی رسد متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے 60 تجارتی شراکت دار ممالک کی درآمدات پر مزید ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے نے بھی مہنگائی کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
مالیاتی منڈیوں میں یہ توقع بھی زور پکڑ رہی ہے کہ عالمی مرکزی بینک سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتے ہیں۔
سرمایہ کاروں کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ ہفتے ہی شرح سود میں اضافے کا امکان ایک تہائی تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ستمبر میں شرح سود بڑھانے کا امکان تقریباً یقینی سمجھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: لائیو اسٹاک اور زراعت پر توجہ دے کر ایک سال میں معیشت بہتر کی جا سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف
ادھر یورپی مرکزی بینک نے اگرچہ اپنی حالیہ میٹنگ میں شرح سود برقرار رکھی، تاہم مالیاتی منڈیوں میں ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات تقریباً 70 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔
ایشیائی منڈیوں میں ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس میں ایک فیصد، جاپان کے نکی انڈیکس میں 2.9 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 3.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آبنائے ہرمز آئل ٹینکر اسٹاک ایکسچینج انڈیکس بحیرہ احمر پاکستان حبیب بینک حوثی سیمنٹ مانیٹری پالیسی میزان بینک نیشنل بینک