انٹرپول کے ہاتھوں عراق میں گرفتار ہونے والا قتل کا ملزم پاکستان منتقل
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
ایف آئی اے این سی بی اور انٹرپول کی بڑی کارروائی میں قتل اور اقدام قتل کے مقدمے میں مطلوب اشتہاری ملزم داود سرور کو عراق سے گرفتار کر لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:ایف آئی اے کی کراچی ایئرپورٹ پر کارروائیاں، 3 ملزمان گرفتار
ملزم کو گرفتاری کے بعد کراچی ایئرپورٹ منتقل کیا گیا، جہاں ایف آئی اے امیگریشن کراچی نے اسے پنجاب پولیس کے حوالے کر دیا۔
داود سرور گزشتہ 5 سال سے پنجاب پولیس کو مطلوب تھا اور اس کے خلاف تھانہ قلعہ دیدار سنگھ گوجرانوالہ میں مقدمہ درج تھا۔
ایف آئی اے این سی بی انٹرپول نے اس کی گرفتاری کے لیے ریڈ نوٹس جاری کیا تھا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزم کی حوالگی انٹرپول اسلام آباد اور انٹرپول بغداد کے درمیان قریبی رابطہ کاری کی بدولت ممکن ہوئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹرپول ایف آئی اے پاکستان عراق.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرپول ایف ا ئی اے پاکستان ایف آئی اے
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔