UrduPoint:
2026-06-03@08:34:44 GMT

ایران سنگین آبی بحران کے دہانے پر ہے، ایرانی صدر

اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT

ایران سنگین آبی بحران کے دہانے پر ہے، ایرانی صدر

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 01 اگست 2025ء) وسائل کے ناقص انتظام اور حد سے زیادہ استعمال کی وجہ سے ایران کو بجلی، گیس اور پانی کی، خاص طور پر زیادہ طلب والے مہینوں میں، قلت کا بار بار سامنا رہتا ہے۔

نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے جمعرات کو اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ صدر پزشکیان نے ایک بیان میں کہا کہ '’’اگر ہم تہران میں پانی کے استعمال کو قابو میں نہ رکھ سکے اور عوام نے تعاون نہ کیا تو ستمبر یا اکتوبر تک ڈیموں میں پانی نہیں بچے گا۔

‘‘

ماحولیاتی تحفظ کی تنظیم کی سربراہ، شینہ انصاری کے مطابق، ملک گزشتہ پانچ سالوں سے خشک سالی کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ چار ماہ میں اوسطاً بارشوں میں 40 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

(جاری ہے)

انصاری نے جمعرات کو سرکاری میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’پائیدار ترقی کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں ہم آج کئی ماحولیاتی مسائل، جیسے کہ پانی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

‘‘ قدرتی وسائل کا انتظام ایران میں ایک مستقل مسئلہ

پانی کا حد سے زیادہ استعمال ایران میں پانی کے انتظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ تہران صوبے کی واٹر اینڈ ویسٹ واٹر کمپنی کے سربراہ، محسن اردکانی نے مہر نیوز ایجنسی کو بتایا کہ تہران کے 70 فیصد شہری روزانہ 130 لیٹر سے زیادہ پانی استعمال کرتے ہیں، جو مقررہ معیار سے زیادہ ہے۔

قدرتی وسائل کا انتظام ایران میں ایک مستقل مسئلہ رہا ہے، چاہے وہ قدرتی گیس ہو یا پانی کا استعمال، کیونکہ ان کے حل کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے، خاص طور پر زرعی شعبے میں، جو کہ ملک میں 80 فیصد پانی استعمال کرتا ہے۔

پزیشکیان نے حکومت کی اس تجویز کو مسترد کر دیا جس میں بدھ کے دن چھٹی یا گرمیوں میں ایک ہفتے کی تعطیل کی تجویز دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا، ’’اداروں کو بند کرنا صرف پردہ ڈالنا ہے، پانی کی قلت کا حل نہیں۔‘‘

سن 2021 کی گرمیوں میں، جنوب مغربی ایران میں پانی کی قلت کے خلاف مظاہرے بھی ہو چکے ہیں۔

درجہ حرارت 51 ڈگری سینٹی گریڈ تک

جنوب مغربی ایرانی شہر امیدیہ میں درجہ حرارت 51 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔ ملک کے دیگر شہروں میں بھی زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 45 ڈگری سے تجاوز کر گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کی وارننگ کا حوالہ دیتے ہوئے،ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے بتایا کہ آئندہ دنوں میں ایران کے کچھ حصوں میں ریت کے طوفان اور خراب ہوا کے معیار کی توقع ہے۔

یہ شدید گرمی کی لہر ملک میں جاری پانی کے بحران کو مزید بدتر بنا رہی ہے، ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ 80 فیصد ذخائر تقریباً خالی ہو چکے ہیں۔

متعدد شہروں میں حکام نے پانی کی فراہمی جبراً بند کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

دارالحکومت تہران میں حالیہ دنوں میں کئی گھنٹوں تک نلکوں سے پانی نہیں آیا۔

تیل سے مالا مال صوبہ خوزستان، جو زمین پر سب سے زیادہ گرم رہنے والے علاقوں میں سے ایک ہے، بڑھتی ہوئی بجلی کی بندش اور پانی کی قلت کا سامنا کر رہا ہے، جس سے رہائشیوں کی زندگی مشکل ہو گئی ہے، خاص طور پر جب ایئر کنڈیشنر کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

ادارت: صلاح الدین زین

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پانی کی قلت ایران میں سے زیادہ میں پانی قلت کا

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا ایران سے تحریری وعدے کا مطالبہ!
  • امریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں، ایران
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا