پشاور:

بھارتی حکومت کی طرف سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے فیٹف سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے اور پاکستان میں دہشتگردی کی سرپرستی اور اوچھے ہتھکنڈوں سے متعلق علی امین گنڈا پور نے سخت ردعمل دیا ہے۔

اپنے اہم پالیسی بیان میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ الیکشن میں مصروفیت کی وجہ سے بعد میں معلوم ہوا کہ بھارتی حکومت نے فیٹف سے متعلق میرے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا ہے، جس کی تھوڑی وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ بھارت آج سے نہیں ہمیشہ سے پاکستان اور اس پورے خطے کے اندر جتنی دہشتگردی ہو رہی ہے اس میں ملوث ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں کشمیر اور گلگت بلتستان کا بھی منسٹر رہا ہوں، اب میں فیٹف کو خط بھی لکھ رہا ہوں اور ساتھ خود وہاں جاکر وضاحت سے بتاؤں گا۔ اس کے علاوہ پورے پاکستان میں جتنی بھی دہشت گردی ہو رہی ہے اس میں بھارت ملوث ہے۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ خاص طور پر افغانستان کے اندر جو جنگ تھی تو 100 سے زیادہ سفارتخانے بھارت نے کھولے ہوئے تھے۔ نہ وہاں پر بھارت کی طرف سے تجارت ہو رہی تھی، نہ سرمایہ کاری ہو رہی تھی اور نہ سفارت کاری ہو رہی تھی بلکہ ان سفارتخانوں کے ذریعے صرف پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے کام کر رہے تھے۔

وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ میں یہ بھی ایکسپوز کروں گا کہ پورے پاکستان کے اندر دہشتگردی اور بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے اندر دہشتگردی میں بھارت کیا کردار ہے، میں یہ سب وہاں پر خود ایکسپوز کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ میں پوری دنیا کو بتاؤں گا کہ پاکستان کے دفاع کے لیے ہمارا لیڈر عمران خان، ہماری پوری پارٹی اور پوری قوم سب کے سب متحد ہیں۔ ابھی حال ہی میں بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کیا، جس میں بری طرح شکست ہوئی۔ اس پر عمران خان اور پوری قوم سمیت ہماری دفاعی فورسز نے یہ ثابت کیا ہے کہ بھارت ہم تمہارا بندوبست کرنا جانتے ہیں۔

علی امین نے کہا کہ میں واضح طور پر یہ کہتا ہوں کہ اس پورے خطے کے اندر دہشت گردی میں بھارت ملوث ہے، چاہے وہ چائنیز پر حملے ہوں، کسی تنصیبات پر حملے ہوں یا کسی اور طرح کی دہشت گردی جو اس ملک میں ہو رہی ہے اس کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں۔

وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ اسی طرح میں یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے پشتونوں نے کشمیر کو آزاد کروایا تھا، ان شاءاللہ وقت آئے گا کہ یہ جو باقی کشمیر جس پر بھارت نے قبضہ کیا ہوا ہے ہم پختون اس کو بھی آزاد کروائیں گے۔

علی امین نے کہا کہ مودی میں تمہیں پیغام دے رہا ہوں کہ ہم تمہاری طرح بزدل نہیں ہیں کہ ہم رات کی تاریکی میں آئیں۔ ہم نعرہ لگا کر آتے ہیں اور اگلے کو بتا کر آتے ہیں، ہمارا ایمان ہے کہ فتح ہمیشہ سچ اور حق کی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اندر بھارت جو دہشتگردی پھیلا رہا ہے اس کے خاتمے کے لیے ہماری عوام اور ہماری فورسز بے مثال قربانیاں دے رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، اس ملک میں جتنی حکومتیں ہیں وہ ساری حکومتیں، پوری قوم اور تمام دفاعی ادارے، پوری قوم پاکستان کی دفاع کے لیے ایک ہے، متحد ہے۔

مودی کو پیغام دیتے ہوں علی امین نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کے لیے ہم سب ایک ہیں، میں تمہیں اور تمہاری حکومت کو بھی ایکسپوز بھی کروں گا۔ تم نے جو سیاق و سباق سے ہٹ کر ایک غلط بیانیہ پیش کر کے پاکستان کو فیٹف کی گرے لسٹ میں ڈالوانے کی کوشش کی ہے، میں فزیکلی وہاں جا کر بتاؤں گا اور ثابت کروں گا کہ دہشتگردی کے حوالے سے فیٹف کی گرے لسٹ میں جانے کے لیے بھارت 100 فیصد فٹ ہے اور ان شاءاللہ فیٹف کی گرے لسٹ میں ڈلواؤں گا۔

وزیر اعلیٰ کے پی کا کہنا تھا کہ آج مجھے عمران خان کی وہ بات یاد آرہی جو انہوں نے مودی کے بارے میں بالکل ٹھیک کہی تھی کہ ’’Small man in big office‘‘۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ میں پاکستان کے میں بھارت انہوں نے علی امین پوری قوم کے اندر کروں گا کے لیے ہو رہی

پڑھیں:

بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات

بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب

اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔

تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت

اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔

دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی