بھارتی فوجیوں نے گزشتہ ماہ جولائی میں 7 کشمیریوں کو شہید کیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے 5 کشمیریوں کو تلاشی اور محاصرے کی کارروائیوں کے دوران جعلی مقابلوں میں شہید کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران گزشتہ ماہ جولائی میں 7 کشمیریوں کو شہید کیا۔ ذرائع کی طرف سے جاری کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے 5 کشمیریوں کو تلاشی اور محاصرے کی کارروائیوں کے دوران جعلی مقابلوں میں شہید کیا گیا۔بھارتی فوجیوں اور پیراملٹری فورسز نے تلاشی اور محاصرے کی 144 کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران 49 کشمیریوں کو گرفتار کیا جن میں بیشتر سیاسی کارکن اور نوجوان شامل تھے۔ ان میں سے کئی نظربندوں کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ سمیت کالے قوانین کے تحت مقدمات درج کر کے انہیں مختلف جیلوں میں نظربند کیا گیا۔
اس عرصے کے دوران بھارتی فوج اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال سے 51 کشمیری زخمی ہوئے۔ اس دوران بھارتی قابض انتظامیہ نے 22 کشمیریوں کی املاک بشمول رہائشی مکانات، دکانیں اور زرعی اراضی ضبط کر لیں۔ یہ غیر قانونی ضبطگیاں بی جے پی کی بھارتی حکومت کی کشمیریوں کے معاشی طور پر استحصال اور ان کے سیاسی موقف اور جذبہ حریت کو کمزور کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان، محمد ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، مولوی بشیر احمد، بلال صدیقی، امیر حمزہ، مشتاق الاسلام، ڈاکٹر حمید فیاض، ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم، نور محمد فیاض، عبدالاحد پرہ، فردوس احمد شاہ، اسد اللہ پرے، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، غلام قادر بٹ، سید شاہد یوسف، رفیق گنائی، حیات احمد بٹ، ظفر اکبر بٹ، عمر عادل ڈار، فیاض حسین جعفری، محمد یاسین بٹ، انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز، عرفان مجید اور دیگر سمیت تین ہزار سے زائد حریت رہنما، کارکن، کشمیری نوجوان، طلباء، علمائے کرام اور صحافی بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کشمیریوں کو کے دوران شہید کیا
پڑھیں:
لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
ترجمان اتحاد اُمت فورم کے مطابق کانفرنس کے دوران ’’استقبال محرم‘‘ کے عنوان سے ایک نشست شامل کی گئی ہے، جس میں ملک بھر سے ماتمی سنگتوں کو دعوت دی گئی ہے، جو استقبال محرم کی اس نشست میں ماتم اور نوحہ خوانی کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور میں 13 جون کو مینار پاکستان گراؤنڈ میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ترجمان اتحاد اُمت فورم کے مطابق کانفرنس کے دوران ’’استقبال محرم‘‘ کے عنوان سے ایک نشست شامل کی گئی ہے، جس میں ملک بھر سے ماتمی سنگتوں کو دعوت دی گئی ہے، جو استقبال محرم کی اس نشست میں ماتم اور نوحہ خوانی کریں گے۔ ترجمان کے مطابق ملک بھر سے معروف نوحہ خواں حضرات کو بھی خصوصی طور پر دعوت دی گئی ہے جبکہ ماتمی سنگتیں بھی دُختر رسولؑ کو پرسہ دیں گی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے باقاعدہ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو نوحہ خواں حضرات اور ماتمی انجمنوں کے سالاروں سے رابطے کر رہی ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ماتمی سنگتوں کے سالاروں اور نوحہ خواں حضرات نے اظہار تشکر کیا ہے کہ انہیں بھی اس عظیم اجتماع میں شرکت کا موقع دیا جا رہا ہے۔ کانفرنس میں نوحہ خواں حضرات نوحہ خوانی کیساتھ شہیدِ امت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو بھی اپنے اپنے انداز میں خراج عقیدت پیش کریں گے۔