بھارت کی پاکستان کے خلاف ایک اور محاذ کھولنے کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
بھارت پاکستان کے ساتھ شپنگ اور پوسٹل روابط بھی معطل کرنے پر غور کررہا ہے
چارٹر معاہدے کی خلاف ورزی پر بھارت کے لیے شپنگ انشورنس بڑھ جائیگی
بھارت کا پاکستان کے خلاف ایک اور محاذ کھولنے کی تیاریاں، بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت پاکستان کے ساتھ شپنگ اور پوسٹل روابط بھی معطل کرنے پر غور کررہا ہے ۔حسب روایت بھارتی میڈیا شپنگ اور پوسٹل روابط کی معطلی سے پاکستان کے لیے مشکلات کا واویلہ کررہا ہے وہیں شپنگ سیکٹر کے ماہرین نے بتایا کہ پاکستان کے خلاف دیگر محاذوں کی طرح اس محاذ پر بھی بھارت کو منہ کی کھانی پڑیگی۔ پاکستان کے پرچم بردار کارگو بحری جہاز ملائشیا سے کارگو بھارت لے جانے کے لیے چارٹرڈ ہیں۔اس وقت پاکستانی فلیگ بردار بحری جہاز سبی کلکتہ کی بندرگاہ پر موجود ہے یہ جہاز 26 ہزار ٹن کوئلہ ملائیشیا سے لے کر بھارت پہنچا ہے جبکہ دوسرا بحری جہاز چترال بجی مئی کے پہلے ہفتے میں ملائیشیا سے کارگو لے کر بھارت پہنچے گا۔پاکستانی فلیگ بردار جہازوں پر پابندی پر بھارت کو لندن میری ٹائم ثالثی ایسوسی ایشن میں گھسیٹا جاسکتا ہے چارٹر معاہدے کی خلاف ورزی پر بھارت کے لیے شپنگ انشورنس بڑھ جائیگی دیگر شپنگ لائنز سے چارٹر کرنا مشکل ہوگا۔واضح رہے کہ بھارت انڈو پاک میری ٹائم پروٹوکول معطل کرنے پر غور کررہا ہے جو 2006 میں طے کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :