قبائلی شہری پاک فوج کے شانہ بشانہ، بھارت کو منہ توڑ جواب کے لیے پر عزم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
بھارت کی پاکستان کے خلاف جارحیت اور ممکنہ حملے کے جواب میں لنڈی کوتل کے قبائلی عوام نے پاک فوج اور دفاع پاکستان کی خاطر احتجاجی مظاہرہ اور مارچ کیا۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں پاکستان کے جھنڈے اور پلے کارڈ تھے جن پر پاکستان کے حق میں نعرے درج تھے۔
مزید پڑھیں: پاک فوج کی جنگی مشقیں پورے زور و شور سے جاری
قبائلی مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ وطن عزیز کی خاطر پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور بھارت کے خلاف ہر محاذ پر ان کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں۔ مظاہرے میں تاجر، بلدیاتی نمائندوں تاجروں اور قبائلی مشران سمیت سیاسی نمائندوں نے بھی شرکت کی اور وطن سے محبت کا اظہار کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت پاک فوج لنڈی کوتل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پاک فوج لنڈی کوتل پاک فوج
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔